گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری نے گل پلازہ سانحے پر صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں اب تک تقریباً 60 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ درجنوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
کراچی کی مارکیٹوں اور فیکٹریوں میں ناقص انفرا اسٹرکچر کے باعث آتشزدگی کے واقعات عام ہیں، تاہم اتنے بڑے پیمانے پر آگ لگنے کا واقعہ کم ہی دیکھنے میں آیا ہے۔
لاپتا افراد کے لواحقین نے 3 منزلہ گل پلازہ میں جاری سست رفتار ریسکیو آپریشن پر شدید تنقید کی ہے، جہاں امدادی ٹیمیں ملبے میں انسانی باقیات کی تلاش میں مصروف ہیں۔
مزید پڑھیں:
گل پلازہ سانحے پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ وہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کو خط لکھ کر اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کرانے کی استدعا کریں گے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل بھی کھلے مین ہولز میں گرنے سے درجنوں بچے جان سے جا چکے ہیں۔
سانحہ گل پلازہ کو ایک ہفتہ گزر گیا، مگر لواحقین کی آہیں اور سسکیاں آج بھی گونج رہی ہیں۔ مرہم رکھنے کے بجائے سیاسی بیانات زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔ میں گل پلازہ کے متاثرین کو ایک ایک پلاٹ دینے کا اعلان کرتا ہوں۔ سانحہ پر سیاست اور بلیم گیم بند ہونی چاہیے۔ ایک ہفتہ بعد بھی ذمہ… pic.
— Kamran Tessori (@KamranTessoriPk) January 23, 2026
اگرچہ حکومت نے ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے، تاہم آگ لگنے کی اصل وجہ تاحال سامنے نہیں آ سکی۔
کامران ٹیسوری نے کہا کہ افسوسناک واقعے کو گزرے ایک ہفتہ ہو چکا ہے لیکن اب بھی سیاسی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ الزام کسی اور پر ڈالنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی اور ذمہ داروں کی نشاندہی کر کے انہیں سزا دلائی جائے گی۔
مزید پڑھیں:
گورنر سندھ نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو ذاتی طور پر اس بات کی تحقیقات کرنی چاہیے کہ مشینری درست طریقے سے کیوں کام نہیں کر رہی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سانحے میں جان بحق ہونے والے ایک شخص کے بیٹے پر لاٹھی چارج کیوں کیا گیا جبکہ مائیں انصاف کے لیے در بدر بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔
کامران ٹیسوری نے کہا کہ عوام سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ٹیکس بھی دیں اور جانوں کی قربانی بھی۔
مزید پڑھیں:
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے اس معاملے پر سیاست کی تو وہ سب کے راز بے نقاب کر دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ اس غفلت کو کسی صورت چھپنے نہیں دیں گے۔
گورنر سندھ نے یہ بھی کہا کہ وہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بھی آگاہ کریں گے کہ کراچی ان کا انتظار کر رہا ہے۔ ’فیلڈ مارشل کو خود آ کر دیکھنا چاہیے کہ یہاں کس نے ناانصافی کی ہے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جوڈیشل انکوائری چیف جسٹس سانحہ سپریم کورٹ سندھ حکومت سندھ ہائیکورٹ کامران ٹیسوری گل پلازہ گورنر سندھ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جوڈیشل انکوائری چیف جسٹس سپریم کورٹ سندھ حکومت سندھ ہائیکورٹ کامران ٹیسوری گل پلازہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری گورنر سندھ گل پلازہ انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔