سلمان اقبال کا گل پلازہ متاثرین کیلئے قرض کا اعلان، صارفین کی شدید تنقید
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
پاکستان کی معروف کاروباری شخصیت اور کراچی کنگز کے مالک سلمان اقبال نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے لیے امداد کا اعلان کیا جس پر صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ ہفتے کراچی کے معروف تجارتی مرکز گل پلازہ میں رات تقریباً 10:30 بجے آگ بھڑک اٹھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے عمارت کو چاروں طرف سے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
View this post on Instagram
Shared post on Time
Instagram embed
ریسکیو حکام کے مطابق اب تک سانحہ گل پلازہ میں 65 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جب کہ 80 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
علاوہ ازیں، گل پلازہ کی تمام 1200 دکانیں، عمارت اور ان میں موجود سامان مکمل طور پر جل کر راکھ ہو چکا ہے جب کہ لوگ اب بھی اپنے پیاروں کی باقیات کی تلاش میں ہیں اور آئے روز دل دہلا دینے والی کہانیاں سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں۔
گزشتہ روزپی ایس ایل فرنچائز کراچی کنگز کے مالک اور نجی ٹی وی چینل کے سی ای او سلمان اقبال کی جانب سے گل پلازہ کے متاثرین کے لیے قرض کا اعلان کیا گیا۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ کا سانحہ تمام پاکستانیوں کا سانحہ ہے، اور سانحہ میں اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے، میں نے خود کئی خواتین سے ملاقاتیں کی جو اپنے کاروبار کے ذریعےاپنے گھروں کو چلا رہی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے گورنر سندھ سے بات کی ہے کہ متاثرین کو 5 سے 6 ارب روپے کا قرض دیا جائے جب کہ میں نے گرانٹ کے بجائے قرض کی بات اس لیے کی کیونکہ یہ شہر کبھی بھیک نہیں مانگتا، اسی لیے قرض کی درخواست کی۔
دوسری جانب، سلمان اقبال کے بیان پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے، صارفین کا ماننا ہے کہ اتنے بڑے جانی ومالی نقصان کے بعد کسی قسم کی گرانٹ کے بجائے قرض کی پیشکش کیوں کی جارہی ہے۔
ایک صارف نے لکھا ہے کہ یہ رقم اپنے پاس رکھیں، آپ اس نقصان کا تصور بھی نہیں کر سکتے، کیونکہ یہ نقصان کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔
ایک اور نے لکھا کہ ’قرض کا مطلب ہے کہ آپ دگنی رقم وصول کریں گے‘۔
ایک صارف نے سوال اٹھایا کہ ’کیا واقعی اس بحران کے وقت وہ قرض کی پیشکش کر رہے ہیں‘َ؟
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سلمان اقبال گل پلازہ قرض کی
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.