رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای پوری انسانیت کے لئے مشعلِ راہ ہیں، علامہ شبیر میثمی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
ایک بیان میں ایس یو سی کے مرکزی سیکریٹری جنرل نے کہا کہ پاکستان کا نہ صرف ہر مسلمان، بلکہ ہر وہ پاکستانی جو اسلام اور ایران سے محبت رکھتا ہے، وہ اسلامی جمہوریہ ایران اور اس کی قیادت کی مکمل حمایت کا اعلان کرتا ہے، رہبرِ انقلاب کا عالمِ اسلام میں ہمارے دلوں میں ایک گہرا مقام ہے اور وہ ہماری امید، اعتماد اور اتحاد کا مرکز ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ شبیر میثمی نے بانیِ انقلابِ اسلامی ایران کے عالمی مقام و مرتبے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات سب پر واضح ہے کہ رہبرِ انقلابِ اسلامی صرف مسلمانوں کے لیے باعثِ فخر نہیں ہیں، بلکہ وہ پوری انسانیت کے لیے ایک متاثر کن شخصیت ہیں، وہ ایک ایسی بہادر اور انسان ساز شخصیت ہیں جنہوں نے دنیا بھر کے انسانوں کے ضمیر اور دلوں کو بیدار کیا۔ انہوں نے مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ اپنی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ سال قبل مسیحیوں، ہندوؤں اور سکھوں کے ساتھ گفتگو کے دوران میں نے اس حقیقت کا مشاہدہ کیا کہ وہ بھی یہ مانتے ہیں کہ رہبرِ انقلاب نے انسانوں کو یہ سکھایا کہ انسانیت، وقار اور باہمی احترام کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ کیسے رہا جاتا ہے، یہی وہ حقیقت ہے جس سے ٹرمپ جیسی استعماری طاقتیں خوفزدہ ہیں۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ ایک وقت تھا جب یورپ بھی ان استعماری قوتوں کے ساتھ کھڑا تھا، لیکن آج خود یورپ کو سنگین خطرات کا سامنا ہے، یہ تبدیلیاں ظاہر کرتی ہیں کہ انقلابِ اسلامی کا انسانی اور الہیٰ پیغام سرحدوں سے نکل کر عالمی مساوات پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ پاکستان کا نہ صرف ہر مسلمان، بلکہ ہر وہ پاکستانی جو اسلام اور ایران سے محبت رکھتا ہے، وہ اسلامی جمہوریہ ایران اور اس کی قیادت کی مکمل حمایت کا اعلان کرتا ہے، رہبرِ انقلاب کا عالمِ اسلام میں ہمارے دلوں میں ایک گہرا مقام ہے اور وہ ہماری امید، اعتماد اور اتحاد کا مرکز ہیں، اسلامی قیادت نہ صرف کسی ایک خطے یا ملک کے مسلمانوں کے لیے، بلکہ تمام مسلمانوں اور حتیٰ کہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت، وحدت اور یکجہتی کا باعث بنے گی، ہم نے اسلام کا راستہ منتخب کیا ہے اور ہم اس راستے پر ثابت قدمی سے قائم رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے ساتھ کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔