گوگل سرچ میں پرسنلائزڈ انٹیلی جنس متعارف، اے آئی صارف کی پسند کے مطابق نتائج پیش کرے گی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گوگل نے اپنی سرچ سروس میں پرسنلائزڈ انٹیلی جنس نامی نیا مصنوعی ذہانت پر مبنی فیچر متعارف کرا دیا ہے، جسے گوگل سرچ کے اے آئی موڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔
گوگل کے مطابق یہ نیا فیچر صارف کے جی میل اور گوگل فوٹوز سے محدود معلومات حاصل کر کے سرچ نتائج کو زیادہ ذاتی، موزوں اور ترجیحی بنانے میں مدد دیتا ہے، اے آئی موڈ دراصل گوگل کا ایجنٹک سرچ نظام ہے، جس میں مصنوعی ذہانت خودکار طور پر صارف کے لیے تلاش کا عمل انجام دیتی ہے۔
پرسنلائزڈ انٹیلی جنس کو فعال کرنے کے بعد اے آئی ٹیکنالوجی صارف کی ای میلز اور تصاویر میں موجود مخصوص تفصیلات کو مدنظر رکھ کر سرچ نتائج ترتیب دیتی ہے، مثال کے طور پر اگر کوئی صارف جوتوں کی تلاش کرتا ہے تو گوگل اے آئی اس کے ماضی کے خریداری کے رجحانات، پسندیدہ برانڈز اور سابقہ سرچ ہسٹری سے اخذ کردہ معلومات کی بنیاد پر نتائج پیش کرے گی۔
کمپنی نے واضح کیا ہے کہ یہ فیچر خودکار طور پر فعال نہیں ہوگا بلکہ صارف کو اپنی مرضی سے اسے ٹرن آن کرنا ہوگا، اس عمل میں جی میل ان باکس یا دیگر ایپس کے مکمل ڈیٹا تک رسائی حاصل نہیں کی جائے گی بلکہ صرف محدود معلومات کو اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
یہ نیا فیچر گوگل لیبز کے تحت ایک تجرباتی منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور فی الحال امریکا میں گوگل اے آئی پرو اور اے آئی الٹرا سبسکرپشن رکھنے والے صارفین کے لیے دستیاب ہوگا۔ اسے ویب، اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ڈیوائسز پر استعمال کیا جا سکے گا۔
گوگل کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے کے بعد اس فیچر کو بتدریج امریکا سے باہر دیگر ممالک کے صارفین کے لیے بھی متعارف کرایا جائے گا، جس سے سرچ کا تجربہ پہلے سے کہیں زیادہ ذاتی اور ذہین ہو جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنبیہ کی ہے کہ عمران خان سے ملاقات ہونے تک صوبے کا بجٹ منظور نہ ہونے دیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلی سہیل آفریدی نے علیمہ خان کے ساتھ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کی۔ اس دوران سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنے کی بات کی تو علیمہ خان نے انہیں ٹوک دیا۔
علیمہ خان نے سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس کرنے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ بجٹ پاس کیوں کر رہے ہیں؟ ان سے کہیں پہلے میری بانی سے ملاقات کروائیں‘۔
علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پچھلے سال بھی کہا تھا میرے ساتھ بجٹ پر بات کرو ، آپ آج بھی ان سے کہیں بجٹ سے پہلے بانی سے ملاقات کرائیں ۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سارے لوگ ظلم کیخلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو تنہا کیا گیا جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، ہمارا یہاں آنے کا ایک ہی مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشل منتقل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بانی کا علاج انکی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو، ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لئے یہ ملنے نہیں دے رہے۔ عید سے پہلے انہون نے ہمیں گیارہ گھنٹے تک روک کر عوام کو مصیبت میں ڈالا گیا
اُن کا کہنا تھا کہ مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو فیملی کو کم از کم ملنے دیا جائے، پاکستان تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کا نام ہے، بانی نے جیل سے فیصلہ کیا کہ فلاں وزیر اعلیٰ نہیں ہو گا، بانی کے فیصلے کے بعد کوئی بھی طاقت اس کو نہیں بچا سکتی تھی۔
مزید پڑھیںاڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط نہ ہو سکے
علیمہ خان نے سابق آرمی چیف کی عمران خان سے ملاقات کی خبر کو بے بنیاد قرار دیدیا
انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ ہو گا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو تبدیل نہیں کرسکتی، اڈیالہ جیل سے جب تک بانی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیر اعلیٰ رہوں گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ کے پی کی حکومت فقط بانی پی ٹی ہی ختم کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ کام کوئی نہیں کرسکتا، صوبے میں فارورڈ بلاک پروپیگینڈا ہے اور یہ اس لئے کیا گیا وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی و بیرونی قرضے 97 ارب تک پہنچ چکے، حکومت ٹیکس کے اہداف پورے نہیں کر سکی اور آج حکومت میں شامل پارٹیاں عوام کا نہیں سوچ رہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، میری تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ بانی کے علاج کیساتھ اس بجٹ پر فوکس رکھیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کے پی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کر دیا ہے اور ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، اس سال بھی عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے گا۔ ہمارا سارا فوکس صحت تعلیم زراعت نوجوان اور جنگلات پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لا رہے ہیں، وفاقی بجٹ کا اثر سارے صوبوں بشمول گلگت بلتستان پر پڑے گا۔