کوئٹہ میں متاثرہ پلازے کے دورے کے موقع پر کمشنر شاہزیب کاکڑ نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد تاجروں کے نقصانات کے ازالے کیلیے سفارشات اعلیٰ حکام کو ارسال کی جائینگی۔ اسلام ٹائمز۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے کہا ہے کہ حلیم پلازے میں آتشزدگی کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے تحقیقاتی رپورٹ اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد تاجروں کے نقصانات کے ازالے کے لیے سفارشات اعلیٰ حکام کو ارسال کی جائیں گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فتح محمد روڈ پر آتشزدگی سے متاثرہ پلازہ کے دروے کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صدر انجمن تاجران بلوچستان رحیم خان کاکڑ سمیت دیگر تاجر رہنماء اور دکاندار بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

کمشنر نے متاثرہ تاجروں کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے تحقیقاتی رپورٹ اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد تاجروں کے نقصانات کے ازالے کے لیے سفارشات اعلیٰ حکام کو ارسال کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان متاثرہ افراد کو تنہاء نہیں چھوڑے گی۔ کمشنر کوئٹہ نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122، فائر بریگیڈ، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیموں نے بروقت اور مربوط کارروائی کرتے ہوئے کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے بعد

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ