کراچی:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازہ کے ہر دکان دار کو پہلے مرحلے میں پانچ لاکھ روپے دینے اور گل پلازہ کی دوبارہ تعمیر کا اعلان کیا ہے۔

سندھ اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ گل پلازہ سانحے نے پورے ملک کو غمگین کر دیا، میں آج اس ایوان کو اعتماد میں لینا چاہتا ہوں، ایسے واقعات دنیا بھر میں ہوتے ہیں، ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کچھ کرنا ہوگا، اس واقعے میں ٹوٹل 88 مسنگ لوگ رپورٹ ہوئے ان میں سے کچھ کی رپیٹیشن ہوئی 82 کا عدد درست تھا، اس وقت تک 67 باڈیز برآمد ہوچکی ہیں اور اب بھی 15 لوگ لاپتا ہیں جب کہ 15 لوگوں کی ڈی این اے ہوچکا ہے اور 52 لوگوں کا ڈی این اے پراسس چل رہا ہے باڈیز کی شناخت کروا کہ کہ لواحقین لے حوالے کی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ کا واقعہ دس بج کر چودہ منٹ پر گراؤنڈ فلور کی ایک دکان پر آگ لگنے سے پیش آیا، دس بجکر چھبیس منٹ پر فائر برگیڈ کو کال آئی، کمی یا کوتاہیوں پر مکمل انکوائری ہو رہی ہے، اس سانحے کا مقدمہ درج ہوگا، ریسکیو 1122 کو دس بج کر چھتیس منٹ پر کال گئی، آگ کے 16 منٹ بعد حکومتی نمائندہ ڈی سی ساؤتھ واقعے کی جگہ پہنچ گیا، مجھے کسی کی نیت پر شک نہیں لیکن اس پر سیاست کسی کو نہیں کرنی چاہیے تھی، اٹھارویں ترمیم والے بیانات کے بعد کیا محرکات ہیں کچھ بتاؤں گا۔

وزیر اعلی سندھ کی تقریر کے دوران جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق اپنی نشست سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور کہا کہ سی ایم صاحب غلط بیانی کر رہے ڈی سی نہیں پہنچا تھا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کہنا نہیں چاہتا تھا مگر چور کی ڈاڑھی میں تنکا، کی ایم سی نے گل پلازہ کی لیز منظور کی تھی، اس وقت کی ایم سی میں کون تھا؟ اسی کی دہائی میں گل پلازہ کا تعمیراتی کام مکمل ہوا، گل پلازہ کی لیز کو آٹھ سال بعد ری نیو کیا گیا، سال 1991ء میں کی ایم سی نے گل پلازہ کی لیز میں توسیع کی، اٹھارویں ترمیم سے پہلے کا گند ہم اب تک صاف کر رہے ہیں، 1991ء میں میئر کون تھا؟ پہلے نعمت اللہ خان تھے پھر فاروق ستار تھے اس وقت کے میئر نے لیز منظور کی، 1979ء میں گل پلازہ کو بیسمنٹ گراؤنڈ اور دو فلور کی منظوری دی گئی تھی، دو ہزار ایک میں اٹھارویں ترمیم اور پیپلز پارٹی نہیں تھی، اس وقت ایک آرڈیننس آیا کہا گیا کہ جتنی بھی عمارتوں میں ارریگیورلٹیز ہیں ان کو ریگیورلائیز کروائیں، کاغذات میں پلازہ کے جتنے خارجی راستے موجود ہیں اتنے اس وقت موجود نہیں تھے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ایسے سانحے کو اپنے سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرنا میرے لیے ایک بڑے جرم کے برابر ہے، حکومت پر تنقید کریں لیکن سیاست نہیں کریں، ہفتے والے دن واقعہ ہوا میں نے پیر کو اجلاس بلایا اور کمیٹی بنائی، جو بھی ذمہ دار ہوگا اس کو سزا ملے گی، حکومتی اداروں کی اگر غفلت ہے تو ان کو بھی سزا ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے پہلے دن ہی کراچی میں تین بڑے واقعات ہوئے ہیں، بولٹن مارکٹ، ٹمبر مارکٹ اور کو آپریٹو مارکٹ میں واقعہ ہوا، اس وقت صدر زرداری نے وفاقی حکومت سے تاجروں کو معاوضہ دلایا، شہدا کے لیے ایک کروڑ کا اعلان کیا تھا وہ پیسے ریلیز کرائے اسی طرح یہاں بھی کمشنر کراچی شناخت کے بعد پیسے لواحقین کے حوالے کریں گے۔

انہوں ںے کہا کہ حکومت سندھ  تاجروں کا نقصان پورا کرے گی، 1102 دکانیں ایس بی سی اے سے منظور شدہ تھیں، تمام دکانیں کے عوض معاوضہ دیں گے، ہر دکان کے مالک کو پہلے مرحلے میں پانچ لاکھ روپے دیے جائیں گے جو کہ کراچی چیمبر کے ذریعے دیے جائیں گے، ہمارے پاس ایک بلڈنگ میں پانچ سو اور دوسری بلڈنگ میں ساڑھے تین سو دکانیں موجود ہیں، ان مالکان کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ایک سال تک کرایہ نہ لینے کا اعلان کیا۔

سی ایم نے کہا کہ جن کے پاس دکانیں موجود تھیں ان کو پیسے دیے جائیں گے، دو سال تک ہم تاجروں کو کاروبار کے لیے دکان مہیا کریں گے، متاثرین کے لیے سیکیورٹی سندھ حکومت دے گی، ایک کروڑ روپے تک کا قرضہ جو تاجر لینا چاہے وہ ملے گا اور سود حکومت سندھ بھرے گی، گل پلازہ کو گرانا پڑے گا، کوشش کریں گے دو سال میں گل پلازہ کو تیار کرکے دکانیں بنائیں اور تاجروں کے حوالے کریں۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ دو ماہ میں عارضی دکانوں کا انتظام کردیں گے، گل پلازہ کو اپنی اصل شکل میں واپس لایا جائے گا، کی ایم سی نے جو بلڈنگز کا آڈٹ کیا، وہ خط سی ایم تک بالکل پہنچا تھا لیکن اس وقت سی ایم میں نہیں تھا، سول ڈیفنس کا ادارہ ہوم ڈپارٹمنٹ کے انڈر ہے، ہم نے فیصلہ کیا ہے تمام اداروں کو ایک ساتھ کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے وفاقی وزیر کامرس سے کہا ہے ہمارے پاس انشورنس کا نظام نہیں ہے میں نے کہا ہے کہ انشورنس کے لیے قانون سازی تیار کریں غلطی بتانے پر ہم چھوٹے نہیں ہوجائیں گے، ہم خوش ہوں گے لیکن خفیہ ایجنڈا نہیں چلنے دیں گے، قومی اسمبلی میں بیٹھ کر کہا گیا کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کیا جائے، آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ وفاق صوبے کو آکر کنٹرول کرسکتا ہے، کوشش کریں گے اٹھارویں ترمیم سے پہلے جو گند تھا اسے صاف کردیں۔

وزیر اعلی سندھ کی تقریر ختم ہونے کے بعد ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے رکن نشستوں پر کھڑے ہوگئے جس پر اسپیکر نے انہیں کہا کہ آپ لوگ بیٹھ جائیں اور رولز پڑھیں، اراکین کو وقت ملے گا مجھے ڈکٹیٹ نہ کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اٹھارویں ترمیم گل پلازہ کو گل پلازہ کی نے کہا کہ کی ایم سی جائیں گے کا اعلان کریں گے کے لیے سی ایم

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف