ایمیزون میں مزید 14 ہزار کارپوریٹ ملازمین کی چھٹی متوقع
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایمیزون اگلے ہفتے ایک اور بڑے دور کی کارپوریٹ ملازمین کی چھٹی کا آغاز کر سکتا ہے، جس میں قریباً 14,000 افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ اقدام گزشتہ اکتوبر میں ہونے والی اسی نوعیت کی چھٹی کے برابر ہوگا، جس میں قریباً 14,000 ملازمین شامل تھے۔
مزید پڑھیں:گارجیئن رپورٹ: اسرائیل مکروہ ہتھکنڈوں کے لیے گوگل اور ایمیزون کو کس طرح استعمال کر رہا ہے؟
کورونا وبا کے دوران 2020 میں بھرتیوں کی بڑی لہر کے بعد کمپنی کی کارپوریٹ اسٹاف میں کمی کے یہ منصوبے ایمیزون کی تاریخ کی سب سے بڑی چھانٹیوں میں سے ایک ہوں گی۔ کمپنی نے نومبر 2022 سے جنوری 2023 کے درمیان قریباً 27,000 ملازمین کی چھٹی کی تھی۔
ایمیزون کے مطابق یہ اقدامات انتظامی ڈھانچے کو ہلکا کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں اور اس سے قریباً 10 فیصد کارپوریٹ اسٹاف متاثر ہوگا، جبکہ باقی 1.
یہ چھٹنی خاص طور پر ایمیزون ویب سروسز، ریٹیل، پرائم ویڈیو اور ہیومن ریسورسز کے شعبوں کو متاثر کرے گی۔ پچھلی بار، اکتوبر میں چھٹنی کے دوران ملازمین کو 90 دن تک تنخواہ کے ساتھ رہنے اور اندرونی ملازمت یا دیگر مواقع تلاش کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:ایمیزون نے ڈرائیورز کے لیے اے آئی اسمارٹ چشمے متعارف کرا دیے
ایمیزون کی عالمی موجودگی اور ملازمین کی بڑی تعداد کے پیش نظر، یہ چھٹی کمپنی کے لیے تاریخی اہمیت رکھتی ہے اور عالمی مارکیٹ میں اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایمیزون کارپوریٹ ملازمین کی چھٹی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایمیزون ملازمین کی چھٹی کے لیے
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔