پاکستان ریلوے پولیس نے سال 2025 مجموعی طور پر 658 لڑکے لڑکیوں کو پکڑا جن میں 413 لڑکے اور 245 لڑکیاں شامل ہیں جو گھروں سے بھاگ کر مختلف ریلوے اسٹیشن اگئے تھے۔ پاکستان ریلویز پولیس کی طرف سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان ریلوے پولیس نے سال 2025 مجموعی طور پر 658 لڑکے لڑکیوں کو پکڑا۔جن میں 413 لڑکے اور 245 لڑکیاں شامل ہیں جو گھروں سے بھاگ کر مختلف ریلوے اسٹیشن اگئے تھے ان کو ان کے ورثہ کے حوالے کیا بھاگنے والے میں بچیاں بھی جن کی عمر 15 سے 18 سال کی ہیں وہ بھی شامل تھیں اور لڑکوں میں بھی 14سے لیکر 17  سال کی عمر کے لڑکے بھی شامل تھے۔زیادہ تر 12 سے 15 سال کی عمر کے لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں جو گھر میں گھریلو حالات سے تنگ ا کر بھاگ کر یا تو اپنے عزیز و اقارب کی طرف جانے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر ریلوے اسٹیشن پر ہی گزارا کرتے ہیں۔پاکستان ریلوے پولیس نے لاہور سمیت کراچی حیدراباد سکھر ملتان فیصل اباد پشاور کوئٹہ   سمیت دیگر ریلوے اسٹیشن سے ان بچے بچیوں کو پکڑ کر ان کے والدین اور دیگر عزیز و اقارب کے حوالے کیا۔ابتدائی معلومات اور تفتیش کے دوران زیادہ تر بچوں نے گھروں سے بھاگنے کی وجہ بے روزگاری کھانے پینے کی کمی اور والدین کی ڈانٹ ڈپٹ یا زبردستی ان کو کام کاج پر لگانے۔سوشل میڈیا کی چکا چوند اور عشقِ پیار محبت  سمیت اچھا لائف اسٹائل بنانے کے لیے گھر سے فرار ہونا قرار دیا۔بے روزگار ی غربت مہنگائی کی وجہ سے معاشی حالات اس قدر خراب ہو گئے کہ لوگ اپنے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے بچیوں کو لوگوں کے گھروں میں کھانے پکانے  صفائی ستھرائی اور دیگر کام کے لیے بھجوا دیتے ہیں اور پھر مہینوں مہینوں ان سے ملاقات نہیں کرتے یہ بچے یا تو وہاں سے بھاگ جاتے ہیں یا جب ان کو پتہ چلتا ہے کہ ان کے والدین یا عزیز و اقارب ان کو پڑھائی لکھائی کہ بجائے کہیں مزدوری کے لیے بھجوا رہے ہیں تو وہ بھی بھاگ جاتے ہیں۔

دوسری سب سے بڑی وجہ یہ سامنے ائی کہ جدید سہولیات میسر نہیں ہے اچھا ٹفن نہیں ملتا  کیک  پیزا  برگر نوڈلز نہیں ملتے ٹفن  میں روایتی پراٹھے یا روٹی یا املیٹ ہوتا ہے ان کو جیم معاملیٹ کے ساتھ سلائس نہیں دیے جاتے نہ ہی ان کو نوڈلز یا دیگر بچوں کی پسندیدہ چیزیں بنا کر دی جاتی ہیں۔یہ بچے جب اسکولوں میں دوسرے بچوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ مختلف انواع کی چیزیں لے کر اتے ہیں تو وہ گھر جا کر اپنے والدین سے شکایتیں کرتے ہیں کہ ہمیں وہ بھی چیزیں کھلائیں لیکن والدین معاشی حالات خراب ہونے کی وجہ سے ان کو یہ چیزیں فراہم نہیں کر سکتے بلکہ الٹا ان کو مارتے پیٹتے ہیں۔بچوں کو اسکول مدرسوں میں بھی مار پیٹ کا سامنا رہتا اور گھر آکر بھی یہی حالات ہوتے تو بچے بچیاں پھر   فرار ہونے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ریلوے پولیس کے سئینر آفیسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ دوران تفتیش کچھ لڑکیوں نے بتایا کہ ان کی پسند کی شادی نہیں کی جارہی یا وہ فیس بک پر دوستی اور عشقِ کے چکر میں پڑ نے کے بعد گھروں سے قیمتی کپڑے اور رقم سمیت کچھ زیورات بھی ساتھ لے آئیں تھی، وہ سامان بھی واپس کیا۔ریلوے اسٹیشن پر قائم ہیلپ ڈیسک پر آئے روز گھروں سے بھاگ کر آنے والے بچوں کو پکڑ کر ان کے ورثہ کے حوالے کیا جاتا ہے اور یہ عمل مکمل چھان بین اور کوائف دیکھنے کے بعد مکمل کیا جاتا ہے۔ان کے والدین کو بھی سمجھاتے کہ وہ بھی اچھا سلوک کریں جو ممکن ہو وہ اپنے بچوں کو لیکر دیں اگر ان کی شکایات اسکول مدرسوں سے مارنے پیٹنے کی آرہی ہیں تو ان کے ٹیچر یا قاری صاحب سے پوچھیں جب بچوں کو پرتشدد ماحول ملے گا تو وہ گھروں سے فرار ہی ہونگے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: گھروں سے بھاگ کر ریلوے پولیس نے ریلوے اسٹیشن نے والے بچوں کو وہ بھی

پڑھیں:

کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔

 ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔

بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار