بھارت: خطرناک وائرس کے پانچ کیسز کی تصدیق، ڈاکٹر اور نرسز بھی مبتلا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
بھارت کی مشرقی ریاست مغربی بنگال میں نِپاہ وائرس کے پانچ کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔ وائرس سے متاثرین میں ڈاکٹرز اور نرسیں بھی شامل ہیں۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک مریض کی حالت تشویشناک ہے۔
غیر ملکی خبررساں ادارکے مطابق حکام نے بتایا کہ متاثرہ افراد کا علاج کلکتہ اور قریبی علاقوں کے اسپتالوں میں جاری ہے جبکہ تقریباً 100 افراد کو احتیاطی طور پر گھروں میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ صحت کے محکمے نے صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔
نِپاہ وائرس کو عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے ایک ہائی رسک پیتھوجن قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ وائرس عام طور پر چمگادڑوں سے انسانوں میں (زیادہ تر پھلوں کے ذریعے) منتقل ہوتا ہے۔ اس وائرس کے لیے فی الحال کوئی ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں۔
امریکی ادارہ سی ڈی سی (CDC) کے مطابق نِپاہ وائرس کی علامات ابتدا میں عام ہوتی ہیں، جن میں بخار، سر درد اور کمزوری شامل ہیں، جس کے باعث بروقت تشخیص مشکل ہو سکتی ہے۔ وائرس کی انکیوبیشن مدت چار سے اکیس دن تک ہو سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :