اے آئی تعصب پر تحقیق: چیٹ جی پی ٹی آمرانہ خیالات اپنا سکتا ہے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں چیٹ بوٹس مختلف خطرات کا شکار ہیں جن میں اے آئی سائیکوسس، صنفی تعصب اور مختلف شعبوں سے جڑا ہوا جانبدارانہ رویہ شامل ہے جو عدم مساوات کو مزید تقویت دے سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کی تیز رفتار پیش قدمی سے کونسی ملازمتیں خطرے میں؟ بل گیٹس نے بتا دیا
یونیورسٹی آف میامی اور نیٹ ورک کانٹیجَن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے محققین کی قیادت میں سامنے آنے والی ایک نئی رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی کا چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی معمولی نوعیت کے اشاروں پر بھی آمرانہ نظریات سے متاثر ہو سکتا ہے۔
محققین نے جی پی ٹی 5 اور جی پی ٹی 5.
رپورٹ کے مطابق چیٹ جی پی ٹی معمولی صارف تعامل کے بعد بھی مخصوص سیاسی نظریات، خاص طور پر آمرانہ سوچ، کی طرف جھکاؤ ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مزید پڑھیے: اے آئی کلاڈ کا کمال، سال کا کام گھنٹے میں، گوگل انجینیئرنگ ٹیم بھی حیران
این سی آر آئی کے شریک بانی اور رپورٹ کے مرکزی مصنف جوئل فنکل اسٹین نے میڈیا کو بتایا کہ ان نظاموں کی ساخت میں ہی کچھ ایسا ہے جو انہیں آمرانہ خیالات کے پھیلاؤ کے لیے کمزور بنا دیتا ہے۔
نظریاتی ایکو چیمبرز کو تقویتمحققین کے مطابق طاقتور اے آئی ماڈلز بغیر واضح ہدایات کے بھی خطرناک جذبات اور نظریات اپنا سکتے ہیں۔
صارفین کے خیالات سے حد سے زیادہ ہم آہنگی دکھا کر یہ چیٹ بوٹس صارفین کو نظریاتی ایکو چیمبرز اور انتہا پسندی کی طرف مزید دھکیل سکتے ہیں۔
نظریاتی تبدیلی: بایاں بازو بمقابلہ دایاں بازوتحقیق سے معلوم ہوا کہ اے آئی کے جوابات میں نمایاں فرق اس آمرانہ نظریے کی نوعیت پر منحصر تھا جو اسے فراہم کیا گیا۔ مثال کے طور پر اگر چیٹ بوٹ کو بائیں بازو کے آمرانہ اشارے دیے گئے تو اس نے امیروں سے دولت چھیننے اور آزادیٔ اظہار پر مساوات کو ترجیح دینے جیسی تجاویز دیں۔ یہی رویہ دائیں بازو کے نظریات کے ساتھ بھی دیکھا گیا۔
مزید پڑھیں: چین نے بچوں کو اے آئی کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے کمر کس لی
رپورٹ کے مطابق ماڈل ایک ہی جانب دار سیاسی بیان کو جذب کر کے اسے انتہائی سخت آمرانہ مؤقف میں بدل دیتا ہے اور بعض اوقات اس حد تک جو انسانی تحقیق میں بھی شاذونادر ہی دیکھی جاتی ہے۔
حقیقی دنیا میں اثراتتعصب کے باعث، بائیں بازو کی پرائمنگ کے بعد دشمنی کے تاثر میں 7.9 فیصد اور دائیں بازو کی پرائمنگ کے بعد 9.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
فنکل اسٹین کے مطابق اے آئی میں آمرانہ رجحان صرف سیاست تک محدود نہیں بلکہ ہر اس شعبے کو متاثر کرتا ہے جہاں اے آئی انسانوں کا جائزہ لیتی ہے۔
سیکیورٹی، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ملازمتوں کے انتخاب جیسے حساس شعبوں میں یہ جانبدارانہ رویہ غیر منصفانہ فیصلوں اور وسیع پیمانے پر عدم مساوات کا سبب بن سکتا ہے۔
فنکل اسٹین نے کہا کہ یہ ایک عوامی صحت کا مسئلہ ہے جو نجی گفتگوؤں میں پنپ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں انسان اور اے آئی کے تعلقات کے لیے نئے تحقیقی فریم ورک کی ضرورت ہے۔
تحقیق کی حدوداگرچہ رپورٹ چیٹ جی پی ٹی کے آمرانہ رجحانات سے متاثر ہونے پر اہم روشنی ڈالتی ہے تاہم ناقدین نے اس کی کچھ حدود کی نشاندہی بھی کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اے آئی ماڈلز کس طرح سیکیورٹی رسک بن سکتے ہیں، زیرو ڈے ولنیبریٹی کیا ہے؟
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر ژیانگ ژیاؤ کے مطابق تحقیق میں نمونہ بہت محدود تھا اور بہت کم ماڈلز کو آزمایا گیا۔ یہ مطالعہ صرف اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی تک محدود رہا جبکہ اینتھروپک کے کلاڈ یا گوگل کے جیمنائی جیسے دیگر ماڈلز شامل نہیں تھے۔
اوپن اے آئی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ چیٹ جی پی ٹٰ کو بطور ڈیفالٹ غیر جانبدار بنایا گیا ہے اور یہ لوگوں کو مختلف زاویوں سے خیالات سمجھنے میں مدد دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: اے آئی استعمال کرنے والوں کو پی ٹی اے نے نئی ہدایات جاری کردیں
ترجمان اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ ہم نظام کو اوپن اینڈڈ استعمال کے لیے تیار اور جانچتے ہیں، سیاسی تعصب کو ناپنے اور کم کرنے پر مسلسل کام کرتے ہیں اور اپنے طریقہ کار کو شائع کرتے ہیں تاکہ لوگ دیکھ سکیں کہ ہم کس طرح بہتری لا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی اے آئی اور نظریات اے آئی تعصب مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت سے خطرات
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ئی اے ا ئی اور نظریات اے ا ئی تعصب مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت سے خطرات چیٹ جی پی ٹی اے آئی کے رپورٹ کے کے مطابق اوپن اے سکتا ہے کیا گیا اے ا ئی کے لیے
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔