City 42:
2026-06-02@22:27:20 GMT

پی ٹی آئی کو دھچکا، اہم رہنماپیپلز پارٹی میں شامل

اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT

سٹی42: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بلال منصور نے پاکستان پیپلز پارٹی  میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے۔

پی ٹی آئی کراچی کے رہنما بلال منصور نےپیپلز پارٹی خواتین ونگ کی صدر فریال تالپور سے ملاقات کی، اس موقع پر سعید غنی، سہیل انور سیال اور ڈپٹی میئر سلمان مراد موجود تھے۔

ملاقات کے دوران بلال منصور نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی اورپیپلزپارٹی خواتین ونگ کی صدر فریال تالپور نے ان کو پارٹی میں شامل ہونے پر خوش آمدید کہا۔

پنجاب میں ”اپنا کھیت،ا پنا روزگار پروگرام“ شروع کرنے کا فیصلہ

اس سے قبل 9 دسمبر 2026 کو مظفر آباد میں پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا لگا تھا جہاں مرکزی رہنما اور سابق امیدوار اسمبلی سردار شاہنواز اختر نے اپنے سینکڑوں کارکنان کے ہمراہ مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔

تقریب کے دوران سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے سردار شاہنواز اختر کو ہار پہنا کر پارٹی میں خوش آمدید کہا تھا۔

اس موقع پر سابق وزیر اعظم فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز کی بہتر کارکردگی کے اثرات آزاد کشمیر تک پہنچ رہے ہیں۔تقریب کے دوران پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے متعدد کارکنان نے بھی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی تھی۔

 حکومت نے مری میں سیاحوں کیلئےنئی سہولت متعارف کروادی

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: میں شمولیت پارٹی میں

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان