امریکا نے عالمی ادارہ صحت کے ساتھ شراکت ختم کر دی، پالیسی ناکامیوں کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
امریکا نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ساتھ اپنی شراکت باضابطہ طور پر ختم کردی ہے، جس کے بعد ماہرین نے متعدی بیماریوں کی نگرانی اور ردعمل میں ممکنہ کمزوریوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکی حکومت نے ڈبلیو ایچ او سے علیحدگی کو ادارے کی کووڈ 19 وبا کے دوران ناکامیوں سے جوڑا ہے اور اسے امریکی عوام پر پڑنے والے اثرات کا ازالہ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے عالمی وبائی خطرات سے نمٹنے کا منصوبہ مسترد کردیا، دستخط سے انکار
امریکا کے محکمہ خارجہ اور ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کے وزرا نے مشترکہ بیان میں کہا کہ عالمی ادارے کی ناکامیوں کے سبب امریکا میں نقصان ہوا، اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے اعلان کیا ہے کہ اس کا ایگزیکٹو بورڈ امریکی علیحدگی کے معاملے پر اگلے اجلاس میں بات کرے گا، ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل نے اس فیصلے کو نہ صرف امریکا بلکہ دنیا کے لیے بھی غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے اسے غلط فیصلہ قرار دیا۔
عالمی صحت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ڈبلیو ایچ او سے علیحدگی متعدی بیماریوں، خاص طور پر انفلوئنزا کی نگرانی میں خلا پیدا کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی امداد میں کمی سے عالمی صحت و سلامتی متاثر ہونے کا خطرہ
ڈبلیو ایچ او کے عالمی لیبارٹری نیٹ ورک تک رسائی ختم ہونے سے بیماریوں کی ابتدائی شناخت میں خطرناک خلل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب ڈبلیو ایچ او اپنی سالانہ میٹنگ میں آئندہ سیزن کے ویکسین کے لیے فلو کے نئے اسٹرینز کی شناخت کر رہا ہے، جس میں امریکا کا اہم کردار رہا ہے۔
امریکا میں فلو کے بڑھتے ہوئے کیسز اور اموات کے درمیان اس علیحدگی سے صحت عامہ کے شعبے میں تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک عام گلے کا انفیکشن بچوں کے دماغ کو کیسے بدل سکتا ہے؟
ماہرین نے کہا ہے کہ ڈبلیو ایچ او کے ساتھ شراکت ختم ہونے کے بعد عالمی سطح پر بیماریوں کے پھیلاؤ کی نگرانی اور بروقت معلومات کے تبادلے میں رکاوٹیں سامنے آسکتی ہیں، جس سے نہ صرف امریکا بلکہ دیگر ممالک کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا ڈبلیو ایچ او عالمی ادارہ صحت کووڈ 19 معاہدہ ختم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ڈبلیو ایچ او عالمی ادارہ صحت کووڈ 19 معاہدہ ختم ڈبلیو ایچ او
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔