امریکا نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ساتھ اپنی شراکت باضابطہ طور پر ختم کردی ہے، جس کے بعد ماہرین نے متعدی بیماریوں کی نگرانی اور ردعمل میں ممکنہ کمزوریوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکی حکومت نے ڈبلیو ایچ او سے علیحدگی کو ادارے کی کووڈ 19 وبا کے دوران ناکامیوں سے جوڑا ہے اور اسے امریکی عوام پر پڑنے والے اثرات کا ازالہ قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا نے عالمی وبائی خطرات سے نمٹنے کا منصوبہ مسترد کردیا،  دستخط سے انکار

 امریکا کے محکمہ خارجہ اور ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کے وزرا نے مشترکہ بیان میں کہا کہ عالمی ادارے کی ناکامیوں کے سبب امریکا میں نقصان ہوا، اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے اعلان کیا ہے کہ اس کا ایگزیکٹو بورڈ امریکی علیحدگی کے معاملے پر اگلے اجلاس میں بات کرے گا، ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل نے اس فیصلے کو نہ صرف امریکا بلکہ دنیا کے لیے بھی غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے اسے غلط فیصلہ قرار دیا۔

عالمی صحت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ڈبلیو ایچ او سے علیحدگی متعدی بیماریوں، خاص طور پر انفلوئنزا کی نگرانی میں خلا پیدا کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی امداد میں کمی سے عالمی صحت و سلامتی متاثر ہونے کا خطرہ

 ڈبلیو ایچ او کے عالمی لیبارٹری نیٹ ورک تک رسائی ختم ہونے سے بیماریوں کی ابتدائی شناخت میں خطرناک خلل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب ڈبلیو ایچ او اپنی سالانہ میٹنگ میں آئندہ سیزن کے ویکسین کے لیے فلو کے نئے اسٹرینز کی شناخت کر رہا ہے، جس میں امریکا کا اہم کردار رہا ہے۔

 امریکا میں فلو کے بڑھتے ہوئے کیسز اور اموات کے درمیان اس علیحدگی سے صحت عامہ کے شعبے میں تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایک عام گلے کا انفیکشن بچوں کے دماغ کو کیسے بدل سکتا ہے؟

ماہرین نے کہا ہے کہ ڈبلیو ایچ او کے ساتھ شراکت ختم ہونے کے بعد عالمی سطح پر بیماریوں کے پھیلاؤ کی نگرانی اور بروقت معلومات کے تبادلے میں رکاوٹیں سامنے آسکتی ہیں، جس سے نہ صرف امریکا بلکہ دیگر ممالک کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news امریکا ڈبلیو ایچ او عالمی ادارہ صحت کووڈ 19 معاہدہ ختم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ڈبلیو ایچ او عالمی ادارہ صحت کووڈ 19 معاہدہ ختم ڈبلیو ایچ او

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔

پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا