مرد بہت مظلوم ہیں، گھروں میں بہت کچھ سہتے ہیں لیکن بولتے نہیں، ڈومیسٹک وائلنس بل پر طلال چوہدری کا تبصرہ، قومی اسمبلی میں قہقہے لگ گئے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری کے مردوں کے مظلومیت سے متعلقہ تبصرے پر قہقہے لگ گئے۔وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے ڈومیسٹک وائلنس بل میں ترمیم پر دلچسپ تبصرہ کیا اور کہا کہ مرد بہت مظلوم ہیں، گھروں میں بہت کچھ سہتے ہیں لیکن بولتے نہیں۔
انہوں نے بل کی مخالفت نہ کرنے کا کہتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ ڈومیسٹک وائلنس کے بل میں مردوں کو شامل کیا گیا ہے، وفاقی وزیر کے جملے پر ایوان میں قہقہے لگ گئے۔ڈومیسٹک وائلنس بل میں ترمیم جے یو آئی ف کی عالیہ کامران نے پیش کی، قانون کا مقصد گھریلو تشدد کے خلاف خواتین، مرد، بچوں، کمزور اور مخنث کو تحفظ دینا ہے۔
سابق وزیر اعظم نتائج سے مکمل آگاہ تھے اسکے باوجود ریاستی مفاد کے خلاف فیصلے کیے: بلال اظہر کیانی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ڈومیسٹک وائلنس
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔