بسنت کی خوشیاں واپس، وزیراعلیٰ پنجاب کا فیسٹیول کے موقع پرفری ٹرانسپورٹ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: حکومتِ پنجاب نے بسنت کے موقع پر شہریوں کو سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے 6، 7 اور 8 فروری کو میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین اور گرین لائن میں مفت سفر کی سہولت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
لاہور میں بسنت فیسٹیول سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ بسنت کے دوران 10 لاکھ موٹرسائیکلوں پر مفت سیفٹی وائرز نصب کی جائیں گی، جبکہ 3 روزہ فیسٹیول کے لیے مفت پبلک ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی اور نگرانی کے لیے دو کنٹرول رومز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بسنت کو محفوظ بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے متحرک ہیں اور ٹریفک، مانیٹرنگ اور سیکورٹی کے حوالے سے جامع اور مؤثر منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں عوام کو خوشیوں سے محروم رکھا گیا، اب پنجاب کے عوام کو ان کی ثقافتی خوشیاں واپس دی جا رہی ہیں۔
مریم نواز نے واضح کیا کہ بسنت کے دوران ممنوعہ یا خطرناک ڈور کے استعمال پر پانچ سال تک قید اور جرمانے کی سزا دی جائے گی، جبکہ ریڈ زون میں بغیر سیفٹی راڈ کے موٹرسائیکل داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ بسنت ایک پانچ سو سال پرانا ثقافتی تہوار ہے اور اسے بھرپور اور محفوظ انداز میں منایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ 6 فروری کی رات سے بسنت فیسٹیول کا باضابطہ آغاز ہو جائے گا، اس دوران کلینک آن ویلز، ایمبولینسز اور فائر بریگیڈ کا عملہ بھی ہمہ وقت متحرک رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔