پنجاب میں تین روزہ بسنت فیسٹیول کا اعلان، ہر شہری کو خوشی منانے کا حق حاصل ہے: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے صوبے میں تین روزہ بسنت فیسٹیول کے انعقاد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب میں ہر شہری کو آزادی کے ساتھ خوشی منانے کا حق حاصل ہے، یہ صوبہ سب کا ہے اور عید، ہولی، کرسمس اور رمضان سمیت ہر مذہبی تہوار منانے کا حق عوام کو حاصل ہے۔
وزیراعلیٰ کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں بسنت فیسٹیول سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کے عوام سے خوشیوں کا ماحول چھین کر انہیں تفریح اور خوشی سے دور کر دیا گیا اور اب عوام کو خوشیاں واپس دلانے کا وقت آ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موسم بہار کی آمد کی اطلاع دینے والا بسنت کا تہوار تقریباً 800 سال سے پنجاب کی ثقافت اور ورثے کا حصہ رہا ہے اور دنیا بھر میں پنجاب کے کلچر کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ اس سال 6، 7 اور 8 فروری کو پہلی بار گورنمنٹ اسپانسرڈ اور آرگنائزڈ بسنت منایا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے شہریوں کی حفاظت کے لیے جامع سیفٹی پلان بنایا ہے، جس کے تحت لاہور کو ریڈ، یلو اور گرین زون میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بسنت کے دوران 10 لاکھ بائیکوں پر مفت سیفٹی راڈ لگائے جائیں گے اور 2150 مینوفیکچر، ٹریڈرز اور دکان دار رجسٹرڈ کیے گئے ہیں۔ بسنت سے پہلے غیر قانونی پتنگ بازی پر 600 سے زائد مقدمات درج اور 641 افراد گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ 27 ہزار سے زائد غیر قانونی پتنگیں برآمد کی گئی ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ بسنت کے دوران ڈور کی چرخی منع ہے اور صرف پنا یا کاٹن کے 9 دھاگوں والی ڈور استعمال کی جا سکے گی۔ ممنوعہ ڈور استعمال کرنے پر 5 سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا۔ بسنت کے دوران شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہوگی، اور ریڈ زون میں سیفٹی راڈ کے بغیر بائیک نہیں چلائی جا سکے گی۔
انہوں نے بسنت ٹریفک پلان کے بارے میں بھی بتایا کہ 100 ٹریفک پولیس کیمپ لگائے جائیں گے، فری رائیڈ کی سہولت فراہم کی جائے گی، اور 40 ہزار پولیس اہلکار ڈیوٹی پر رہیں گے۔ بسنت کے دوران سیف سٹی اور کمشنر آفس میں کنٹرول روم 24/7 فعال رہے گا اور ڈرون و سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ کی جائے گی۔
مریم نواز نے کہا کہ بسنت عوام کی خوشی اور تفریح کے لیے ہے اور عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں یا ڈس انفارمیشن پر کان نہ دیں۔ بسنت فیسٹیول کی لانچنگ 6 فروری کی رات ہوگی اور 7 فروری کو باقاعدہ آغاز ہو گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بسنت کے دوران بسنت فیسٹیول مریم نواز نے نے کہا کہ ہے اور
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔