افغانستان میں محاذِ جنگ سے دور رہنے کا الزام: سابق نیٹو فوجی ٹرمپ کے بیان پر برہم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
افغانستان میں محاذِ جنگ سے دور رہنے کا الزام: سابق نیٹو فوجی ٹرمپ کے بیان پر برہم WhatsAppFacebookTwitter 0 23 January, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )یورپ کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے نیٹو کے سابق فوجیوں نے افغان جنگ میں کردار سے متعلق امریکی صدر ٹرمپ کے بیان کو توہین آمیز اور غلط قرار دیا ہے۔ سابق فوجی حکام کا کہنا ہے کہ نیٹو اتحادیوں نے افغانستان میں امریکی افواج کے ساتھ مل کر بھاری جانی قربانیاں دیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مغربی ممالک کے فوجی اتحاد (نیٹو) سے تعلق رکھنے والے سابق فوجیوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اتحادی افواج افغانستان میں محاذِ جنگ سے کچھ پیچھے رہیں۔ سابق فوجیوں نے کہا ہے کہ سیکڑوں یورپی فوجی امریکی افواج کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے مارے گئے۔
رائٹرز کے مطابق برطانوی وزیراعظم کے دفتر نے بھی کہا ہے کہ ٹرمپ کا نیٹو افواج کے کردار کو کم تر ظاہر کرنا غلط ہے، خصوصا اس جنگ میں جو دو دہائیوں تک جاری رہی۔صدر ٹرمپ نے جمعرات کو فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں دعوی کیا تھا کہ امریکا کو کبھی نیٹو کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ انھوں نے الزام لگایا کہ نیٹو اتحاد میں شامل یورپین افواج افغانستان میں محاذِ جنگ سے دور رہیں۔ان کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب یورپی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں، خاص طور پر اس بیان کے بعد جس میں انہوں نے ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے دوران گرین لینڈ حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔
افغانستان اور عراق میں خدمات انجام دینے والے پولینڈ کے ریٹائرڈ جنرل اور سابق اسپیشل فورسز کمانڈر رومن پولکو نے رائٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ اس بیان کے ذریعے سرخ لکیر عبور کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو اتحادیوں نے اس اتحاد کی قیمت خون سے ادا کی ہے اور وہ اس بیان پر معذرت کے منتظر ہیں۔
برطانیہ کے ویٹرنز منسٹر، الیسٹر کارنز جنہوں نے خود افغانستان میں امریکی افواج کے ساتھ پانچ بار خدمات انجام دیں، انھوں نے ٹرمپ کے دعوں کو مکمل طور پر مضحکہ خیز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو افواج نے مل کر خون، پسینہ اور آنسو بہائے اور سب واپس گھر نہیں لوٹے۔
افغانستان کے صوبہ ہلمند میں 2006 میں تعینات پہلے برطانوی بیٹل گروپ کی قیادت کرنے والے ریٹائرڈ کرنل اسٹیورٹ ٹوٹل نے بھی صدر ٹرمپ سے معذرت کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیٹو میں سرمایہ کاری کم کرنے سے متعلق ٹرمپ کی کچھ تنقید سے وہ جزوی اتفاق کرتے ہیں، مگر افغان جنگ سے متعلق بیانات کو انہوں نے غلط اور بلاجواز قرار دیا۔
برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے سابق سربراہ رچرڈ مور نے بھی کہا کہ انہوں نے خطرناک حالات میں امریکی سی آئی اے کے اہلکاروں کے ساتھ کام کیا اور اس اتحاد پر فخر محسوس کیا۔واضح رہے کہ نیٹو کے اجتماعی دفاع کے معاہدے کی شق 5 کے تحت ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس شق کا اطلاق صرف ایک بار 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں یورپی اتحادی امریکا کی قیادت میں افغانستان میں فوجی مشن میں شامل ہوئے۔
رائٹرز کے مطابق کچھ سیاست دانوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ صدر ٹرمپ ویتنام جنگ کے دوران طبی وجوہات کی بنیاد پر فوجی سروس سے بچتے رہے تھے۔ برطانوی لبرل ڈیموکریٹس کے سربراہ ایڈ ڈیوی نے کہا کہ جنہوں نے خود فوجی خدمات انجام نہیں دیں، انہیں قربانیوں پر سوال اٹھانے کا کوئی حق نہیں۔پولینڈ کے وزیر دفاع ولادیسلاو کوسینیاک-کامش نے کہا کہ افغانستان میں پولینڈ کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی اور نہ ہی انہیں کم تر کیا جا سکتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچترال؛ دروش ارندو میں ایک گھر پر برفانی تودہ گرنے سے 9 افراد جاں بحق چترال؛ دروش ارندو میں ایک گھر پر برفانی تودہ گرنے سے 9 افراد جاں بحق کے ہونری کنسول، یاسین جویاہ، کی قیادت میں 24 افراد پر مشتمل بزنس ڈیلیگیشن کا سری لنکا کا دورہ عرب وزرائے خارجہ کا اہم مشاورتی اجلاس، غزہ صورتحال پر مشترکہ حکمتِ عملی پر غور ٹی 20 ورلڈکپ میں شرکت کا معاملہ: بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کو ایک اور خط لکھ دیا بیوی کو گھورنے، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا جرم قرار، پارلیمنٹ سے قانون منظور بورڈ آف پیس میں شمولیت اسلامی ممالک کا مشترکہ فیصلہ, حماس کیخلاف استعمال نہیں ہوں گے،عسکری ذرائعCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: افغانستان میں محاذ ٹرمپ کے
پڑھیں:
امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان
امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔
’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔
اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔
مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں
امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔
دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔
مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔
امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔
یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘
1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔
تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو