ٹرمپ کی دوسری ٹرم میں ملک کے حالات مزید خراب، امریکی ووٹرز کی اکثریت شدید بدظن
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز اور سیئنا یونیورسٹی کے تازہ سروے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے ایک سال بعد بھی امریکی ووٹرز کی اکثریت کا خیال ہے کہ ملک کی حالت پہلے سے زیادہ خراب ہوچکی ہے۔ ٹرمپ کی ترجیحات غلط ہیں۔
سروے کے مطابق صرف 32 فیصد ووٹرز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد ملک کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، جبکہ 49 فیصد کا ماننا ہے کہ حالات پہلے سے خراب ہیں۔
غلط ترجیحات پر توجہ کا الزاماکثریت، یعنی 57 فیصد ووٹرز کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اہم مسائل کے بجائے غلط ترجیحات پر توجہ دی۔ 30 سال سے کم عمر ووٹرز میں یہ شرح 69 فیصد تک پہنچ گئی، جو کسی بھی عمر کے گروپ میں سب سے زیادہ ہے۔
اہم قومی مسائل پر ناپسندیدگیاکثر ووٹرز نے معیشت، مہنگائی، امیگریشن، روس یوکرین جنگ، وینزویلا میں امریکی کردار اور دیگر اہم معاملات پر ٹرمپ کی کارکردگی کو ناپسند کیا۔ 51 فیصد امریکیوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کی وجہ سے ان کی زندگی مزید مہنگی ہو گئی ہے۔
صدر کی مقبولیت میں کمیصدر ٹرمپ کی مجموعی منظوری کی شرح 40 فیصد رہ گئی ہے، جو ستمبر کے بعد 3 پوائنٹس کم ہوئی ہے، جبکہ 56 فیصد ووٹرز ان سے نالاں ہیں۔ صرف 42 فیصد ووٹرز نے ان کے پہلے سال کو کامیاب قرار دیا۔
ملک شدید سیاسی تقسیم کا شکارسروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ نے امریکا کو شدید سیاسی تقسیم میں مبتلا کر دیا ہے۔ 42 فیصد ووٹرز انہیں امریکی تاریخ کے بدترین صدور میں سے ایک سمجھتے ہیں
جبکہ 19 فیصد انہیں بہترین صدور میں شمار کرتے ہیں درمیانی رائے رکھنے والوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔
ریپبلکن حمایت برقرار، مگر دراڑیں نمایاںریپبلکن ووٹرز کی اکثریت اب بھی ٹرمپ کے ساتھ کھڑی ہے، تاہم مہنگائی، خارجہ پالیسی اور جیفری ایپسٹین فائلز کے معاملے پر ان کے اندر بھی ناپسندیدگی دیکھی گئی۔
ایپسٹین کیس پر ٹرمپ کو اپنی ہی پارٹی میں صرف 53 فیصد حمایت ملی، جو سب سے کم ہے۔
آزاد ووٹرز میں شدید ناراضیانتخابات کا رخ متعین کرنے والے آزاد ووٹرز میں سے صرف 34 فیصد ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ 52 فیصد آزاد ووٹرز کے مطابق ملک کی حالت خراب ہوئی ہے، جبکہ صرف 24 فیصد نے بہتری کی بات کی۔
2026 کے انتخابات: ڈیموکریٹس کو برتریاگر آج وسط مدتی انتخابات ہوں تو 48 فیصد ووٹرز ڈیموکریٹس 43 فیصد ریپبلکن امیدوار کو ووٹ دیں گے۔ آزاد ووٹرز میں ڈیموکریٹس کو 15 فیصد پوائنٹس کی واضح برتری حاصل ہے۔
عمر کا مسئلہ اتنا بڑا نہیںٹرمپ اس سال 80 برس کے ہو جائیں گے اور اپنی مدت کے اختتام پر تاریخ کے معمر ترین صدر ہوں گے، تاہم 58 فیصد ووٹرز کے مطابق ان کی عمر رکاوٹ نہیں 40 فیصد نے انہیں بہت زیادہ بوڑھا قرار دیا۔
یہ تناسب جو بائیڈن کے مقابلے میں ٹرمپ کے لیے کہیں بہتر ہے۔
مہنگائی سب سے بڑا مسئلہامریکی عوام کے لیے مہنگائی، روزمرہ اخراجات اور معیشت سب سے اہم مسائل ہیں۔
صرف 24 فیصد ووٹرز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے زندگی کو سستا بنایا، جبکہ 34 فیصد نے مہنگائی سے نمٹنے کے طریقۂ کار کو درست قرار دیا۔
امیگریشن پر ملی جلی رائےنصف ووٹرز غیر قانونی تارکین وطن کی بے دخلی کی حمایت کرتے ہیں، لیکن 61 فیصد نے کہا کہ آئی سی ای (ICE) حد سے زیادہ سختی کر رہی ہے 63 فیصد نے ادارے کی مجموعی کارکردگی کو ناپسند کیا۔
یہ ردعمل حالیہ واقعے کے بعد سامنے آیا جس میں منیاپولس میں ایک آئی سی ای افسر کی فائرنگ سے ایک خاتون ہلاک ہوئیں۔
رائے عامہ کے جائزے پر ٹرمپ کا ردعملصدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ شاید میری پبلک ریلیشنز ٹیم کمزور ہے، ہم اپنی کامیابیاں عوام تک نہیں پہنچا پا رہے۔
مزید براں ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ دی نیویارک ٹائمز کے خلاف مقدمہ دائر کریں گے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا ’ٹائمز سیئنا پول کو بھی مقدمے میں شامل کیا جائے گا۔ ناکام نیویارک ٹائمز کو ان کے انتہا پسند بائیں بازو کے جھوٹ اور غلط کاریوں کا مکمل حساب دینا ہوگا۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رائے عامہ کا جائزہ نیو یارک ٹائمز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رائے عامہ کا جائزہ نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ فیصد ووٹرز آزاد ووٹرز ہے کہ ٹرمپ ووٹرز میں کے مطابق ٹرمپ کی فیصد نے
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔