data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈیووس/اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک+ نمائندہ جسارت +خبر ایجنسیاں)پاکستان سمیت 20 ممالک کے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ مجوزہ عالمی فورم ’بورڈ آف پیس ‘ کے چارٹر پر دستخط کردیے۔ جمعرات کو وزیر اعظم شہباز شریف نے ڈیووس میں بورڈ آف پیس کی باضابطہ تقریب میں شرکت کی جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شامل تھے۔ پاکستان کے اس فیصلے پر پاکستان میں بڑی سطح پر تنقید کی جارہی ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر صدر ٹرمپ نے بتایا کہ اس فورم کا مقصد بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق 59 ممالک مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں میں شامل ہیں اور کئی عالمی رہنما اس فورم کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔صدر ٹرمپ نے دستاویزات پر دستخط کرنے کے بعد انہیں میڈیا کے سامنے پیش کیا، جس کے بعد دیگر عالمی رہنماؤں نے بھی باری باری آ کر چارٹر پر دستخط کیے۔ ڈیووس میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اقتدار میں واپسی کے بعد 8جنگوں کا خاتمہ کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کی حالیہ خارجہ پالیسی کے باعث عالمی سطح پر کشیدگی میں واضح کمی آئی ہے۔ ایران سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے گزشتہ برس جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کی تعریف کی اور دعویٰ کیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں ایران کی جوہری صلاحیت مکمل طور پر ختم ہو گئی۔ ان کے مطابق ایران اب مذاکرات کا خواہاں ہے اور امریکا سے بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کر رہا ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایک سال قبل دنیا شدید بحران کا شکار تھی تاہم اب حالات نسبتاً بہتر اور مستحکم ہو رہے ہیں۔غزہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر حماس نے ہتھیار ترک نہ کیے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اقوامِ متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا۔دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کا بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی جگہ نہیں لے سکتا۔اپنے بیان میں ترجمان نے کہا کہ چین اقوام متحدہ کے بین الاقوامی نظام کے ساتھ کھڑا ہے، عالمی صور تحال جیسی بھی ہو چین اقوام متحدہ کے نظام کے ساتھ کھڑا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی ملک کے ساتھ اثر ورسوخ کا مقابلہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، اقوام متحدہ کے نظام کو قائم رکھنا تمام ممالک کے مفاد میں ہے۔علاوہ ازیں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب میں چینی مندوب کا کہنا تھا کہ تحفظاتی پالیسیوں سے عالمگیریت کو چیلنجز کا سامنا ہے، چین غیر یقینی صورتحال میں یقین دہانی فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے جواب میں چین کا اقوام متحدہ کے لیے مضبوط حمایت کا اعادہ گیا۔ادھر پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تشکیل کردہ غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت کرتے ہوئے امن بورڈ معاہدے کی شرائط منظرعام پر لانے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کردیا۔قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف ) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ آمریت، طاقت اور دولت کا اتحاد ہوچکا ہے، قاتلوں کے ہاتھوں امن کی امید اپنے آپ کو بیوقوف بنانے کے مترادف ہے،یورپ و فرانس سمیت بہت سے ممالک نے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے، ہمارے وزیر اعظم شہباز شریف 70ہزار فلسطینیوں کے قاتل نیتن یاہو کے ساتھ بیٹھ کر امن پر مشاورت کررہے ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ آج ٹرمپ کے پیس بورڈ پر بات کرنا بہت ضروری ہے، برطانیہ کی سرپرستی میں اسرائیلی ریاست قائم کردی گئی، لیگ آف نیشنزکی رپورٹ میں بھی یہودیوں کو فلسطین میں آباد نہ کرنے کی تجویز دی گئی، لیگ آف نیشنزکی رپورٹ کو نظرانداز کر دیا گیا۔مولانا فضل الرحمن کے بقول لیگ آف نیشنز کو نظرانداز کرتے ہوئے یہودیوں کو فلسطین میں بسا دیا گیا، جس کے باعث مسئلہ فلسطین پیدا ہوا، وہی اس کے منصف بن رہے ہیں، 70 ہزار لاشوں کے مرتکب نیتن یاہو کو پیس بورڈ میں شامل کرلیا ہے اور ٹرمپ خود ہی پیس بورڈ کا سربراہ بن بیٹھا ہے، ٹرمپ جس کو چاہے پیس بورڈ کا ممبر بنا دے جس کو چاہے نکال دے۔سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ ہماری پالیسیاں عالمی دباؤ کے تحت بنتی ہیں، بانی پاکستان نے اسرائیل کے حوالے سے جو پالیسی 1940ء کی قرارداد میں دی، ہم کیوں اس پر بات نہیں کرتے، قائد اعظم نے اسرائیل کو ناجائز بچہ قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ آج کے حکمران کیا قائد اعظم کی اسرائیل پالیسی کی سوچ بھی رکھتے ہیں؟ بانی پاکستان کے نام پر روٹیاں ٹکڑے کھانے والے کیا قائد اعظم کی اسرائیل کی پالیسی کے نزدیک سے بھی گزرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بتایا جائے ایوان تو دور کی بات کیا کابینہ کو بھی اعتماد لیا گیا، ذوالفقار علی بھٹو اقوام متحدہ جارہے تھے تواس ایوان کا بھرپور اعتماد لے کر گئے، فلسطین جیسے ایمانی مسئلے پر قوم کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔فضل الرحمن نے کہا کہ کیا ٹرمپ اقوام متحدہ کے متبادل اپنی مرضی کا فورم نہیں بنا رہا، فلسطین میں ہم امن دینے جا رہے ہیں اور اپنے ملک میں امن نہیں، اپنے ملک کے اضلاع کے اضلاع مسلح گروپس کے پاس ہیں،اپنی فورسز اپنی پوسٹیں خالی کرکے مسلح گروپس کے حوالے کررہی ہیں، ٹانک، بنوں، لکی مروت اور ڈی آئی خان سمیت کئی علاقوں میں ٹھیکیداروں سے بھتہ لیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے بجٹ میں تو لگتا ہے مسلح گروپس کے بھتے کا حصہ رکھا جاتا ہے، اپنے ملک میں امن نہیں اور ہم ظلم کے ساتھ دینے فلسطین جا رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آج مغربی جمہوریت کی اصلیت آمریت ننگی ہوکر سامنے آرہی ہے، وینزویلا کے صدر اور اس کی بیوی کو اغوا کرنے والااغوا کار آج امن کا ٹھکیدار بن رہا ہے۔ سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے یہ بھی کہا کہ ہمیں نیتن یاہو کی موجودگی اور ٹرمپ کی صدارت میں پیس بورڈ میں شمولیت سے انکار کردینا چاہیے۔ٹرمپ اور نیتن یاہو کی صورت میں کسی قسم کا کوئی امن بورڈ قبول نہیں ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسڑ گوہر نے کہا کہ فلسطین اور غزہ ہمارے لیے بہت اہم ہے، فلسطین پر ہمارا مؤقف رہا ہے کہ ہر وہ حل ہمیں قبول ہوگا جو مسلم دنیا کو قبول ہوگا،وزیراعظم شہباز شریف نے بغیر سوچے سمجھے غزہ بورڈ کو قبول کر لیا، گزشتہ روز ایک پریس ریلیز آئی جس میں اس پیس آف بورڈ کو قبول کرنے کا بتایا گیا، ابھی تک پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ہمیں بتائیں کہ بورڈ آف پیس کو کن شرائط پر قبول کیا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے ہماری فورسز جائیں گی۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی باڈی نہیں ہے یہ ادارہ علیحدہ سے تشکیل پا رہا ہے اقوام متحدہ کے تحت ہوتا تو حکومت خود فیصلہ کرسکتی تھی، اس معاملے پر پہلے ایوان میں قرارداد لانا ضروری ہے۔بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

مانیٹرنگ ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے بورڈ ا ف پیس فضل الرحمن کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے پیس بورڈ کے ساتھ ٹرمپ کے رہے ہیں رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت