شناختی کارڈ کہاں اور کب استعمال ہوا، شہریوں کو فراڈ سے بچانے کے لیے نادرا نے ایپلی کیشن متعارف کرا دی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نادرا نے شناختی کارڈ ڈیٹا مانیٹرنگ ایپ متعارف کرا دی، شہری پہلی بار اپنے شناختی ڈیٹا کے استعمال پر خود نگرانی کر سکیں گے۔نادرا نے شناختی کارڈ ڈیٹا کے تحفظ کیلئے نئی ڈیٹا مانیٹرنگ ایپ متعارف کرا دی ہے، جس کے ذریعے شہری خود جان سکیں گے کہ ان کا شناختی ڈیٹا کہاں اور کس مقصد کیلئے استعمال ہوا۔ نادرا ایپ پر ڈیٹا ویری فکیشن کی مکمل تاریخ دستیاب ہوگی، جس میں یہ بھی واضح ہوگا کہ کس ادارے نے، کب اور کس نوعیت کی تصدیق کی۔
حکام کے مطابق اس اقدام سے شہریوں کے شناختی ڈیٹا کے غلط استعمال پر مؤثر چیک اینڈ بیلنس ممکن ہوگا جبکہ ڈیٹا لیک اور غیر قانونی تصدیق کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔ نادرا ایپ کے ذریعے پرائیویسی اور ڈیٹا سیکیورٹی میں اضافہ ہوگا اور سائبر کرائم و جعلی تصدیقی کیسز کی حوصلہ شکنی کی جا سکے گی۔
پاکستان میں بینکنگ انڈسٹری کی سطح پر پہلی کامیاب سائبر ڈرل کراچی میں اختتام پذیر
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔