ایک انوکھا نظارہ، آج آسمان پر مسکراتا ہوا چہرہ دکھائی دے گا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
آج رات آسمان ایک دلکش منظر پیش کرنے والا ہے، جہاں چاند، زحل اور نیپچون ایک خاص ترتیب میں قریب نظر آئیں گے اور یوں قدرتی طور پر ایک ’’مسکراتا ہوا چہرہ‘‘ بنتا دکھائی دے گا۔
ماہرینِ فلکیات کے مطابق اسے ٹرپل کنجنکشن کہا جاتا ہے، یعنی ایسا لمحہ جب زمین سے دیکھنے پر کئی فلکی اجسام ایک ہی حصے میں جمع دکھائی دیں، حالانکہ حقیقت میں وہ ایک دوسرے سے لاکھوں کلومیٹر دور ہوتے ہیں۔
یہ خوبصورت فلکی منظر دنیا بھر میں دیکھا جاسکے گا۔ عام آنکھ سے سورج ڈوبنے کے تقریباً تیس سے نوے منٹ بعد چاند اور زحل کو باآسانی پہچانا جاسکتا ہے، جبکہ نیپچون چونکہ خاصا مدھم سیارہ ہے اس لیے اسے دیکھنے کے لیے دوربین یا چھوٹی ٹیلی اسکوپ مددگار ثابت ہوگی۔ یہ موقع زیادہ دیر تک نہیں رہے گا، مگر آسمان سے محبت کرنے والوں کے لیے اسے یادگار بنانے کے لیے کافی ہے۔
View this post on Instagramماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فلکی مظاہر انسان کو کائنات کی وسعت کا احساس دلاتے ہیں اور یہ یاد دہانی بھی کراتے ہیں کہ ہم کتنے خوش نصیب ہیں جو اپنی ہی زمین سے ایسی نایاب خوبصورتی کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔
اگر موسم صاف ہو تو چند لمحوں کے لیے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھنا نہ بھولیے، کیونکہ آج رات کائنات گویا ہمیں مسکرا کر سلام کرنے والی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔