T20 ورلڈ کپ: بنگلادیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ شامل، بھارتی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
بھارت (ویب ڈیسک)رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اس حوالے سے کچھ دیر میں باضابطہ اعلان کرے گی۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ انتظامی اور شیڈولنگ معاملات کے تناظر میں کیا گیا ہے، تاہم آئی سی سی کی جانب سے تاحال اس پر کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔
یاد رہے کہ آئی سی سی نے بنگلہ دیش کے ساتھ مذاکرات کے بعد بی سی بی کی سری لنکا میں میچز منتقل کرنے کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک روز میں حکومت کے ساتھ مشاورت کر کے فیصلہ کر لیں ورنہ متبادل ٹیم کو شامل کر لیا جائے گا ۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ بھارت میں کھیلنے سے صاف انکار کر دیااور اپنے موقف پر قائم رہنے کا فیصلہ سنایا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔