افغان طالبان رجیم: اختلافات شدید ہوگئے، خانہ جنگی کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
افغان طالبان رجیم میں اختلافات کے باعث خانہ جنگی کا خدشہ پیدا ہو گیا، امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ نے لیک آڈیو کے حوالے سے پردہ اٹھا دیا۔
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق طالبان سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوند زادہ نے حکومت کے اندر باہمی سازشوں اور ٹکراؤ کا اعتراف کر لیا، لیک آڈیو میں متنبہ کیا کہ اختلافات جاری رہے تو اماراتِ اسلامیہ کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
دی ڈپلومیٹ کے مطابق کابل اور قندھار دھڑوں کے درمیان تصادم کھل کر سامنے آ گیا، اتحاد محض دعوؤں تک محدود ہے، طالبان وزیر مہاجرین خلیل الرحمان حقانی کی ہلاکت کے بعد حقانی نیٹ ورک اور قندھار قیادت میں کشیدگی شدید ہو چکی۔
حکام نے افغانستان بھر میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کرنے کا حکم دے دیا، قندھار سے آیا، کابل دھڑے نے حکم ماننے سے انکار کر دیا، کابل قیادت کا انٹرنیٹ بحال کرنا سپریم لیڈر کے خلاف بغاوت قرار دیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔