پستہ صحت کا خزانہ: دل، دماغ اور جسمانی طاقت کے لیے مفید قرار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: ماہرینِ غذائیت کا کہنا ہے کہ پستہ ایک نہایت مفید خشک میوہ ہے جو نہ صرف ذائقے میں بہترین ہے بلکہ صحت کے بے شمار فوائد کا حامل بھی ہے۔ روزمرہ خوراک میں مناسب مقدار میں پستہ شامل کرنے سے دل، دماغ، آنکھوں اور مجموعی جسمانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق پستہ میں پروٹین، فائبر، صحت بخش چکنائی، وٹامن بی سکس، وٹامن ای، پوٹاشیم، میگنیشیم اور اینٹی آکسیڈنٹس وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ یہی اجزا پستہ کو دیگر خشک میوہ جات سے ممتاز بناتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پستہ دل کی صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔ اس میں موجود صحت بخش چکنائیاں خراب کولیسٹرول (LDL) کو کم جبکہ اچھے کولیسٹرول (HDL) کو بڑھانے میں مدد دیتی ہیں، جس سے دل کے امراض اور فالج کے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔
پستہ آنکھوں کی صحت کے لیے بھی مفید سمجھا جاتا ہے۔ اس میں موجود لیوٹین اور زیگزینتھین آنکھوں کو کمزوری اور بڑھاپے میں نظر کی کمی سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق باقاعدہ پستہ کھانے سے آنکھوں کی روشنی بہتر رہتی ہے۔
غذائی ماہرین کے مطابق پستہ دماغی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ وٹامن بی سکس دماغی افعال کو بہتر بناتا ہے، یادداشت کو مضبوط کرتا ہے اور ذہنی دباؤ کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح پستہ اعصابی نظام کو مضبوط بناتا ہے اور تھکن میں کمی لاتا ہے۔
پستہ وزن کم کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے بھی مفید ہے کیونکہ اس میں فائبر اور پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو دیر تک پیٹ بھرے رہنے کا احساس دیتی ہے اور غیر ضروری بھوک سے بچاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب مقدار میں پستہ کھانے سے وزن قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ پستہ شوگر کے مریضوں کے لیے بھی مفید مانا جاتا ہے کیونکہ یہ خون میں شوگر کی سطح کو اچانک بڑھنے نہیں دیتا۔ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسم میں سوزش کم کرنے اور قوتِ مدافعت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے بھی صحت کے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔