اسپین میں اپنے مالک مکان کو خاندان سمیت بہیمانہ انداز میں قتل کرنے والے پاکستانی 44 سالہ دلاور حسین کو قید کی سزا سنادی گئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ دل دہلادینے والا واقعہ دسمبر 2023 میں اسپین کے شہر میڈرڈ کے قریبی قصبے موراتا دے تاجونا میں پیش آیا تھا۔

جہاں دلاور حسین ایک ایسے گھر میں کرایہ پر رہتا تھا جس کے مالکان میں دو بزرگ بہنیں اور ان کا ایک معذور بھائی تھا۔ تینوں کی عمریں 70 سے زائد تھیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق اس سانحے کی جڑ ایک جعلی آن لائن محبت کا دھوکا تھا۔ جس میں دونوں بہنیں 2 امریکی فوجیوں کے ساتھ آن لائن جذباتی طور پر جڑ گئی ہیں۔

آن لائن رابطہ رکھنے والے دونوں کو یقین دلایا کہ ایک فوجی مر چکا ہے جبکہ دوسرا بھاری رقم کی وراثت وصول کرنے کے لیے مالی مدد چاہتا ہے۔

اس دھوکے میں آ کر بہنوں نے اپنے کرایہ دار دلاور حسین سے رقم ادھار لی اور آن لائن فراڈیوں کو بھیجتی رہیں اور ان پر بھاری قرض چڑھ گیا۔

دلاور حسین نے بتایا کہ اس نے بزرگ خواتین کو تقریباً 60 ہزار یورو قرض دیا تھا جو کہ تاحال واپس نہیں مل سکا تھا۔

جس پر فروری 2023 میں دلاور حسین گھر میں دو میں سے ایک خاتون کو ہتھوڑا مار کر زخمی کردیتا جس پر 2 سال قید کی سزا ہوتی ہے لیکن یہ پہلا جرم ہوتا ہے اس لیے ہسپانوی قانون کے تحت سزا معطل ہوجاتی ہے۔

رہائی کے بعد دلاور حسین پھر قرض لوٹانے کا مطالبہ کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ دسمبر 2023 میں لوہے کی راڈ مار کر بزرگ بہنوں اور ان کے معذور بھائی کو قتل کردیتا ہے۔

جس کے بعد لاشیں چھپانے کی کوشش میں انھیں آگ لگاکر جلانے کی کوشش کرتا ہے لیکن ناکام ہوجاتا ہے اور پھر تھانے جاکر اعتراف جرم کرکے خود کو پولیس کے حوالے کردیتا ہے۔

دوران حراست ہی 2024 میں تفتیش کے دوران پولیس نے دلاور حسین پر اپنے سیل میٹ بلغاریائی شخص کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا جس پر مقدمہ چلنا باقی ہے۔

اکتوبر 2025 میں عدالت نے دلاور حسین کو تہرے قتل کے الزام میں بارہ بارہ سال قید یعنی مجموعی طور پر 36 سال قید کی سزا سنائی۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم کی ذہنی کیفیت میں بگاڑ کے باعث سزا میں نرمی کا سبب قرار دیا۔ ملزم نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔

عدالت میں بیان دیتے ہوئے ملزم دلاور حسین نے معافی مانگی اور کہا کہ وہ مختلف آوازیں سن رہا تھا اور اس وقت حواس میں نہیں تھا۔

 .

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دلاور حسین سال قید

پڑھیں:

سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

اٹلی میں مبینہ طور پر چار پاکستانی کسانوں(Pakistani farmers) کے لرزہ خیز قتل کے واقعے پر ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی اٹلی میں جلائی گئی ایک وین سے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاں بحق افراد پاکستانی نژاد ہو سکتے ہیں، تاہم اس مرحلے پر ان کی شہریت کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔

دفتر خارجہ کے مطابق مقامی پولیس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

مزید پڑھیں:کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع

ترجمان نے مزید بتایا کہ اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے ۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان