اسپین میں بزرگ خواتین اور انکے معذور بھائی کا قتل؛ پاکستانی شخص کو 36 سال قید
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
اسپین میں اپنے مالک مکان کو خاندان سمیت بہیمانہ انداز میں قتل کرنے والے پاکستانی 44 سالہ دلاور حسین کو قید کی سزا سنادی گئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ دل دہلادینے والا واقعہ دسمبر 2023 میں اسپین کے شہر میڈرڈ کے قریبی قصبے موراتا دے تاجونا میں پیش آیا تھا۔
جہاں دلاور حسین ایک ایسے گھر میں کرایہ پر رہتا تھا جس کے مالکان میں دو بزرگ بہنیں اور ان کا ایک معذور بھائی تھا۔ تینوں کی عمریں 70 سے زائد تھیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق اس سانحے کی جڑ ایک جعلی آن لائن محبت کا دھوکا تھا۔ جس میں دونوں بہنیں 2 امریکی فوجیوں کے ساتھ آن لائن جذباتی طور پر جڑ گئی ہیں۔
آن لائن رابطہ رکھنے والے دونوں کو یقین دلایا کہ ایک فوجی مر چکا ہے جبکہ دوسرا بھاری رقم کی وراثت وصول کرنے کے لیے مالی مدد چاہتا ہے۔
اس دھوکے میں آ کر بہنوں نے اپنے کرایہ دار دلاور حسین سے رقم ادھار لی اور آن لائن فراڈیوں کو بھیجتی رہیں اور ان پر بھاری قرض چڑھ گیا۔
دلاور حسین نے بتایا کہ اس نے بزرگ خواتین کو تقریباً 60 ہزار یورو قرض دیا تھا جو کہ تاحال واپس نہیں مل سکا تھا۔
جس پر فروری 2023 میں دلاور حسین گھر میں دو میں سے ایک خاتون کو ہتھوڑا مار کر زخمی کردیتا جس پر 2 سال قید کی سزا ہوتی ہے لیکن یہ پہلا جرم ہوتا ہے اس لیے ہسپانوی قانون کے تحت سزا معطل ہوجاتی ہے۔
رہائی کے بعد دلاور حسین پھر قرض لوٹانے کا مطالبہ کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ دسمبر 2023 میں لوہے کی راڈ مار کر بزرگ بہنوں اور ان کے معذور بھائی کو قتل کردیتا ہے۔
جس کے بعد لاشیں چھپانے کی کوشش میں انھیں آگ لگاکر جلانے کی کوشش کرتا ہے لیکن ناکام ہوجاتا ہے اور پھر تھانے جاکر اعتراف جرم کرکے خود کو پولیس کے حوالے کردیتا ہے۔
دوران حراست ہی 2024 میں تفتیش کے دوران پولیس نے دلاور حسین پر اپنے سیل میٹ بلغاریائی شخص کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا جس پر مقدمہ چلنا باقی ہے۔
اکتوبر 2025 میں عدالت نے دلاور حسین کو تہرے قتل کے الزام میں بارہ بارہ سال قید یعنی مجموعی طور پر 36 سال قید کی سزا سنائی۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم کی ذہنی کیفیت میں بگاڑ کے باعث سزا میں نرمی کا سبب قرار دیا۔ ملزم نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔
عدالت میں بیان دیتے ہوئے ملزم دلاور حسین نے معافی مانگی اور کہا کہ وہ مختلف آوازیں سن رہا تھا اور اس وقت حواس میں نہیں تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دلاور حسین سال قید
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔