Express News:
2026-07-24@03:41:26 GMT

ریلوے کی کارکردگی، بہتر بنانے کی ضرورت

اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT

دسمبر کی ایک سرد رات تھی، کراچی کینٹ اسٹیشن سے ایک گاڑی نے غالباً 5 بجے کے قریب لاہور کے لیے روانہ ہونا تھا لیکن اس دن معلوم ہوا کہ ٹرین ہی لیٹ آ رہی ہے، 9 بجے پہنچے گی۔ بالآخر ٹرین رات 10 بجے پہنچ ہی گئی۔ مسافروں نے سکھ کا سانس لیا اور امید تھی کہ ہنگامی بنیادوں پر جلدازجلد ٹرین روانہ کر دی جائے گی لیکن 12 بج گئے پھر ایک بج گیا پھر دو بجے، تمام مسافروں کے صبر کا پیمانہ اچھل پڑا کیونکہ 4 بجے سے لوگ انتظار میں تھے۔ یہاں 10 گھنٹے گزر گئے۔

ٹرین بھی پہنچی ہوئی ہے لیکن کوئی اعلان نہیں، کوئی افسر نہیں، سرد یخ بستہ رات ہے۔ لوگوں کے صبر کا پیمانہ اچھلتے اسٹیشن ماسٹر کے دفتر تک پہنچ گیا۔ بس پھر کیا تھا شکوہ شکایت اور بالآخر احتجاج شروع ہوگیا جو اپنا رنگ دکھا گیا۔

عملے کی دوڑیں لگوا دی گئیں، ڈھائی بجے سے پہلے ہی ٹرین لاہور کے لیے روانہ ہو گئی۔ مسئلہ کیا تھا، سستی، کاہلی، غیر ذمے دارانہ رویہ، فرائض سے کوتاہی آخر کیا سبب تھا کہ زیادہ سے زیادہ ایک سے دو گھنٹے کے اندر ٹرین روانہ کر دی جاتی۔ شاید انھیں احتجاج کا انتظار تھا،کیونکہ کام وقت پر نہیں ہوتا، شور پر ہوتا ہے اورکام میں تاخیر سستی کے باعث نہیں، نظام کی کمزوری تھی۔ اچھی کارکردگی پر کوئی انعام نہیں تھا، بری کارکردگی، سستی، کاہلی پر کوئی سزا نہ تھی۔

پاکستان ریلوے کی کارکردگی موثر بنانے کے لیے انقلابی اقدامات ناگزیر ہیں گزشتہ دنوں وزیر اعظم نے اس سلسلے میں ہدایت کی ہے کہ حکام عملی اقدامات کا روڈ میپ بنائیں۔ ریلویز کے وسائل کے کمرشل استعمال کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے۔ انھوں نے یہ ہدایت بھی دی ہے کہ پاکستان ریلوے باہمی مشاورت کے بعد عملی اقدامات پر مشتمل روڈ میپ آئندہ ہفتے پیش کرے۔ امید ہے کہ آیندہ چند روز میں ایک جامع رپورٹ پیش کر دی جائے گی۔

پاکستان ریلوے محض ایک ٹرانسپورٹ ادارہ نہیں بلکہ قومی معیشت کا اسٹرٹیجک ستون ہے۔ ماضی میں اور آج کل بھی ناقص انتظام، فرسودہ ڈھانچے، ٹوٹی پھوٹی بوگیاں اور مسلسل مالی خسارے نے اس ادارے کو کمزور کر دیا ہے، لیکن آج کل اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس بات کی تگ و دو کی جا رہی ہے کہ یہ محکمہ کسی طرح فعال کردار ادا کرنا شروع کر دے۔ ورنہ یہ محکمہ عوام کے لیے مشکلات کا سبب اور قومی خزانے پر بوجھ بن کر رہ جائے گا۔

موجودہ حکومت کی کچھ کوششیں رنگ لے کر آئی ہیں کہ پاکستان ریلوے نے مالی سال 2024-25 میں ایک تاریخی مالیاتی کامیابی حاصل کی ہے جب ریلوے کے منافع میں اضافہ ہوا۔ اگرچہ کئی باتیں اچھی بھی ہوئی ہیں لیکن اس کے باوجود ریلوے اب بھی وہ سست رفتار دیو ہے جس کے اندر ’’بدلاؤ‘‘ اور تیز رفتار اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اگرچہ آج کل اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ریلوے کی بہتری کے لیے مضبوط عملی اقدام پر مبنی روڈ میپ پیش کیا جائے جوکہ حقیقی اصلاحات کے لیے ٹھوس اقدامات کا نقشہ ہو جس سے ریلوے کو منافع بخش اور قابل اعتماد بنایا جاسکے۔

وقت کی پابندی ہو، معیارکو بہتر بنانے کے ساتھ حفاظت اور سہولیات کی بہتری اور سفر کو بہتر بنانا مقصود ہو۔ رپورٹیں یہ ظاہر کر رہی ہیں کہ چند سال کے خسارے کے بعد ریلوے نے منافع کمانا شروع کیا ہے اور یہ محکمہ منافع کا رجحان قائم کر چکا ہے۔ حکام کی طرف سے پاکستان ریلوے اور پرائیویٹ پارٹنر شپ کے امکانات کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے جس میں مال برداری کی خدمات کے لیے خصوصی معاہدے کیے جا سکتے ہیں۔ آنے والا روڈ میپ اگر کامیاب رہا اور کامیابی سے اس پر عمل درآمد کیا جاتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب ریلوے مالی طور پر بن سکتا ہے۔ فریٹ ٹرانسپورٹ پر انحصار بڑھ جائے گا، روزگار اور نئی سرمایہ کاری کے دروازے بھی کھل جائیں گے۔

وزیر اعظم پاکستان کے بار بار توجہ دینے کے باعث پاکستان ریلوے ایک نئے دور کے دروازے پر کھڑا ہے۔ مشاورت، اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اگر اصلاحات عملی، منطقی اور پرائیویٹ شمولیت کے ساتھ کی جائیں تو ریلوے نہ صرف قومی معیشت کے لیے فائدہ مند ہوگا بلکہ ریلوے کے لیے ایک جدید، منافع بخش نظام بھی قائم ہو سکتا ہے۔ وزیر اعظم کی ہدایات کی روشنی میں اگر انقلابی اقدامات طے کیے جاتے ہیں تو شروعات بلاتاخیر شروع کر دی جائے۔ ٹرینوں کی تاخیر کے براہ راست ذمے دار افسران کا تعین کیا جائے، بوگی ٹوٹی ہوئی ہے یا کوئی ایسا مسئلہ ہے جس کا تعلق تعمیر و مرمت سے ہے تو اس کا ذمے دار آفیسر مقررکیا جائے۔

ایک ایسا لائحہ عمل طے کر لیا جائے کہ اگر ٹرین لیٹ آتی ہے تو کتنی دیر میں لازمی روانہ ہوگی، اس وقت کا تعین کرنا ضروری ہے۔ ذمے دار افسر اس بات کا جواب دہ ہو کہ ٹرین لیٹ آئی ہے تو ہنگامی بنیادوں پر جلد ازجلد کیوں نہ چلائی گئی؟ چند گھنٹے کس نے ضایع کیے، اس کا ذمے دار کون ہے؟ اور جب ذمے دار کا پتا چل جائے تو پھر اس کے خلاف کارروائی ہوتی ہوئی نظر آئے تاکہ دیگر افراد کو بھی اس کا علم ہو جائے اور بتدریج پورا محکمہ اس بات سے باخبر ہو کہ اب جزا اور سزا کا نظام ادارے میں فعال ہو چکا ہے۔ لہٰذا نظام کو اتنا فعال بنائیں کہ فیصلے افسران نہیں کریں گے بلکہ نظام فیصلے کرے گا جس کے پاس جزا اور سزا کا نظام ہے۔ لہٰذا ریلوے کے نظام کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے کی ضرورت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان ریلوے روڈ میپ اس بات کے لیے

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت