سانحہ گل پلازہ: ملبے کے ٹرک سے انسانی ہڈیاں سڑک پر گر گئیں
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) گل پلازہ آتشزدگی کے مقام سے ملبہ ٹھکانے لگانے والے ایک ٹرک سے انسانی ہڈیاں اور باقیات سڑک پر گرنے کا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا ہے۔ اس واقعے نے جہاں ریسکیو آپریشن اور انتظامیہ کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان کھڑے کردیے ہیں، وہیں عوام میں شدید اشتعال پیدا کر دیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق گل پلازہ سے ملبہ لاد کر جانے والا ایک ٹرک جب سڑک سے گزرا تو اس میں سے انسانی ہڈیاں اور دیگر باقیات نیچے گرنا شروع ہوگئیں۔ سڑک پر انسانی ہڈیاں بکھری دیکھ کر وہاں موجود راہگیر اور علاقہ مکین ششدر رہ گئے اور فوری طور پر ٹریفک رک گیا۔ انتظامیہ کی عدم موجودگی میں شہریوں نے خود ہی اپنی مدد آپ کے تحت سڑک پر بکھری ہوئی انسانی ہڈیوں اور باقیات کو انتہائی احترام کے ساتھ اکٹھا کیا۔ ان باقیات کو فوری طور پرسول اسپتال منتقل کیا گیا تاکہ انہیں ڈی این اے ٹیسٹ اور شناخت کیلیے محفوظ کیا جاسکے۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ یہ ہڈیاں ان بدقسمت افراد کی ہیں جن کے لواحقین اب بھی ملبے کے پاس اپنوں کی راہ تک رہے ہیں، لیکن انتظامیہ انہیں کوڑا کرکٹ سمجھ کر ٹرکوں میں پھینک رہی ہے۔ اس واقعے کی خبر پھیلتے ہی سول اسپتال اور گل پلازہ کے باہر موجود لواحقین میں کہرام مچ گیا۔ مشتعل شہریوں نے انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی اور مطالبات کیے کہ ملبہ لے جانے والے ٹرکوں کی نگرانی کیوں نہیں کی جا رہی؟ کیا ملبے تلے دبے افراد کی مکمل تلاش کے بغیر ہی اسے ہٹایا جا رہا ہے؟ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ انسانی باقیات کی بے حرمتی کرنے والے ٹھیکیداروں اور متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کی جائے۔ واقعے کے بعد متعلقہ انتظامیہ نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی سی آفس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملبے کی منتقلی کے عمل کو فوری طور پر مزید سخت نگرانی میں کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انسانی ہڈیاں گل پلازہ سڑک پر
پڑھیں:
مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
اسلام آباد، گزشتہ مہینے پاکستان میں 3ہزار 161نئی کمپنیاں رجسٹرڈ(companies registerd) ہوئیں جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 2لاکھ 97 ہزار 239 تک پہنچ گئی۔ ڈیجیٹلائزیشن کے باعث 99.9 فیصد کمپنیاں آن لائن رجسٹر کی گئیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق صوبائی اور علاقائی لحاظ سے مئی کے دوران سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں پنجاب میں رجسٹر ہوئیں، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔
خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کا سیکٹر سرفہرست رہا، جہاں آئی ٹی میں سب سے زیادہ 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
اس کے بعد ٹریڈنگ میں 503 ، سروسز سیکٹر میں 404 ، رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن میں 303 جبکہ سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 206 نئی کمپنیوں نے رجسٹریشن کرائی۔ مئی میں 17 ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی۔
مزید پڑھیں:بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
چین سرفہرست رہا جہاں کے نواسی شیئر ہولڈرز نے کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی۔ تمام غیر ملکی کمپنیوں کا مجموعی ادا شدہ سرمایہ تیرہ کروڑ چورانوے لاکھ روپے ہے۔