جی بی حکومت کی درخواست پر شاہراہ قراقرم پر پھنس جانے والے مسافروں کیلئے کوہستان انتظامیہ کا ریسکیو آپریشن
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
کوہستان انتظامیہ نے حکومت گلگت بلتستان کے فوری رابطہ کے نتیجے میں پھنس جانے والے مسافروں کو خوراک سمیت علاج کی سہولیات بھی فراہم کرتے ہوئے انہیں رہائش بھی دی۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت گلگت بلتستان کی درخواست پر برف باری اور شدید بارشوں کے نتیجے میں پھنس جانے والے مسافروں کے لئے کوہستان انتظامیہ نے فوری ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے شاہراہ قراقرم کوہستان میں برف باری کے دوران پھنس جانے والے مسافروں کو محفوظ مقامات تک پہچانے کیلئے خیبر پختون خواہ حکومت سے رابطے کے بعد ہنگامی ریسکیو آپریشن کیا گیا۔ دریں اثناء حالیہ برف باری اور بارشوں کے نتیجے میں ضلع کوہستان کے مقام پر شاہراہ قراقرم کی بندش سے جی بی سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں مسافروں کو رہائش، علاج معالجہ کی سہولت، خوراک اور محفوظ مقامات تک پہنچایا دیا گیا۔ حکومت گلگت بلتستان کا فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) اور ہزارہ ڈویژن کی انتظامیہ سے بھی رابطہ جاری رہا اور کئی مقامات پہ روڈ کھول کر پھنسے ہوئے مسافروں کو محفوظ مقامات تک پہنچا دیا گیا۔ کوہستان انتظامیہ نے حکومت گلگت بلتستان کے فوری رابطہ کے نتیجے میں پھنس جانے والے مسافروں کو خوراک سمیت علاج کی سہولیات بھی فراہم کرتے ہوئے انہیں رہائش بھی دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پھنس جانے والے مسافروں حکومت گلگت بلتستان کوہستان انتظامیہ کے نتیجے میں مسافروں کو
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔