Jasarat News:
2026-06-02@22:11:40 GMT

کراچی میں ٹرالر گردی جاری،مزید2نوجوان جاں بحق

اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) شرافی گوٹھ فیوچر موڑ کے قریب ٹرالر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 2 نواجون جاں بحق جبکہ ایک شدید زخمی ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق شرافی گوٹھ فیوچر موڑ الجنت ہوٹل کے قریب ٹرالر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 2 نواجون جاں بحق ہوگئے۔ متوفین کی لاشوں اور جناح اسپتال منتقل کیاگیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق حادثہ ٹرلر کی ٹکر سے پیش آیا ہے جبکہ متوفین کی شناخت 18 سالہ عاصم ، 17 سالہ رحمن کے نام سے کی گئی۔ زخمی نوجوان کی شناخت 18 سالہ طلحہٰ کے نام سے ہوئی جس کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ ایس ایچ او شرافی گوٹھ قمر عباس نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے اصئی ہے کہ حادثے کا شکار نوجوانوں کی موٹر سائیکل ٹرلر سے ٹکرائی تھی جو کہ مانسہرہ کالونی کے رہائشی بتائے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا جبکہ پولیس نے ٹرالر کو اپنے قبضے میں لیکر تھانے منتقل کر دیا اور اس حوالے سے مزید تفتیش کا عمل جاری ہے۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا