data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260124-01-21
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ترجمان بلاول ہائوس و رکنِ سندھ اسمبلی سریندر ولاسائی نے وفاقی وزیر مصطفی کمال کے کراچی کے وفاق کے حوالے کرنے سے متعلق بیان پر سخت ردعمل دیا ہے۔ ترجمان بلاول ہائوس نے کہا کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا بیان غیر آئینی، غیر حقیقت پسندانہ اور پاکستان دشمن سوچ ہے‘ مصطفی کمال کو سیاسی طور پر نیند میں چلنے کی بیماری ہے، جس کی حیثیت کونسلر کی نہ ہو اسے وفاقی وزیر بنایا جائے گا تو اس کے پائوں زمین پر ہوں گے نہ ہوش۔ سریندر ولاسائی نے کہا کہ مصطفی کمال دوسروں کی انگلی پکڑ کر چلنے والا وہ سیاسی چھوٹو ہے جس کہ سیاست اپنی ہے نہ سوچ، اگر حادثات کی بنیاد پر شہروں کو وفاق کے حوالے کرنا درست ہوتا تو لاہور کب کا اسلام آباد کے کنٹرول میں ہوتا۔ ترجمان نے کہا کہ لاہور میں الفتح شاپنگ مال کو دو بار، حفیظ سینٹر کو تین بار اور پیس کو دو بار آگ لگی لیکن شاپنگ مالز میں آتشزدگی کے مذکورہ واقعات کے بعد کسی نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ لاہور کو وفاق کے حوالے کیا جائے۔ ترجمان نے سوال کیا کہ خدانخواستہ اگر اسلام آباد میں آتشزدگی کا کوئی حادثہ ہوجائے تو پھر اسے کس کے حوالے کیا جائے گا۔ سریندر ولاسائی نے کہا کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کے غیر منطقی بیانات کے پیچھے تعصب، تقسیم، تخریب اور تشدد کی سیاست ہے۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وفاق کے حوالے کرنے کو وفاق کے حوالے نے کہا کہ

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا