صوبے اپنی ذمہ داری پوری نہ کریں تو وفاق کو مداخلت کا اختیار ہے، مصطفی کمال
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ سندھ کو ایک سال میں 2400 ارب روپے ملے ہیں، سندھ کے وزیر اعلی نے خط لکھ کر کراچی میں گرین لائن پر کام رکوا دیا، کیا میں ہتھیار اٹھا رہا ہوں، سڑک بند کر رہا ہوں یا ہڑتال کر رہا ہوں؟ کے فور منصوبے پر وفاق کا کام شہر میں لائنیں ڈالنا نہیں ہے، سندھ میں کرپشن اور رشوت کی وجہ سے کام نہیں ہورہا۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ صوبے اپنی ذمہ داری پوری نہ کریں تو وفاق کو مداخلت کا اختیار ہے، وزیراعظم نے آئینی ترمیم کی بات قبول کی ہے، جس ایم کیو ایم کے پیپلز پارٹی والے طعنے دیتے ہیں اس کے بانی کے ذاتی مسئلے یہ خود حل کرتے تھے، ایم کیو ایم کے پاس اس وقت وہ طاقت نہیں کہ پورے نظام سے ٹکرا جائے۔ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنما مصطفی کمال نے کہا کہ مثالیں موجود ہیں اہم شہروں کو علاقائی سطح پر صوبوں کے حوالے نہیں کیا جاتا ہے، کراچی میں پے درپے واقعات ہوتے ہیں ہم وزیراعظم سے بات کریں گے، پیپلز پارٹی سندھ میں 18 سال سے حکمرانی کررہی ہے، ہم وزیراعظم سے آئینی ترمیم کی بات کررہے ہیں جو انھوں نے قبول کی ہے، وزیراعظم فلور پر کہہ چکے کہ ایم کیو ایم کی آئینی ترمیم کیلئے میں پی پی کو راضی کروں گا، آج کے حالات نے ثابت کردیا ایم کیو ایم کا 18ویں ترمیم کو سپورٹ کرنا غلط فیصلہ تھا۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ایم کیو ایم میں کوئی تعصب نہیں کراچی میں لوگوں کو ہم نے ہی اکٹھا کیا ہے، پیپلز پارٹی نے ثابت کردیا کہ ریونیو جنریٹ کرنیوالے شہر کیساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ کیا ہم ہتھیار اٹھائیں، ہڑتال کریں یا جو راء کو آواز دیتے تھے وہ کام کریں، ایسا نہیں ہوسکتا، وزیراعلی ہم بن نہیں سکتے، شہر نہیں دے رہے، بلدیاتی حکومت کو رد کردیا، کیا ہمارا کام شہر میں صرف مرنا رہ گیا، آئین وفاق کو اجازت دیتا ہے کہ مداخلت کرے۔ مصطفی کمال نے کہا کہ کیا کراچی والے پاکستان کے شہری نہیں، ہم اور کتنے حادثات کا انتظار کریں، دنیا چاند پر جارہی ہے اور کراچی کے بچے گٹر میں گر رہے ہیں، یہ طعنے دیتے ہیں کہ عمارت ایسے ہی بن گئی تو آپ نے کیوں نہیں توڑا۔
انھوں نے کہا کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں ہمیں اپنی بلدیاتی قانون سے متعلق تجویز سے پیچھے ہٹنا پڑا، ایم کیو ایم کے پاس سارے اختیارات نہیں، وزارتیں خط لکھ کر نہیں مانگی۔ وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہمارے پاس وفاق کو گرانے کی چابی نہیں اور نہ اتنی طاقت ہے کہ نظام سے ٹکرائیں، یہ ہمارے احتساب کا وقت نہیں ہے ہمارا احتساب بعد میں بھی ہوجائیگا۔ مصطفی کمال نے کہا کہ مجھے جو لوگ جانتے ہیں انھیں پتہ ہے ہم نے وزارت ہمیشہ جوتوں کی نوک پر رکھی، ہم ملک کے نظام کا حصہ ہے اس سے ہٹ کر کام نہیں کرنا چاہتے، اس نظام میں ہمارے پاس یہ گنجائش نہیں کہ وفاق کیخلاف جائیں۔ انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے ون پوائنٹ ایجنڈے کو پکڑ کر رکھا ہے، ایم کیو ایم کی آئینی ترمیم آج بھی زندہ ہے پنجاب اسمبلی نے تو اسے منظور کرلیا ہے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا کہ ہمیں ماضی کے واقعات کے طعنے دیے جا رہے ہیں انہوں نے خود کیا کیا ہے؟ حادثات کے بعد سندھ حکومت اگلے حادثے کا انتظار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کا ہر وزیراعلی لاہور کو اون کرتا ہے، سندھ کا وزیراعلی کراچی کو اون نہیں کرتا، ہمیں پیپلز پارٹی سے کوئی امید نہیں رہی، کیا سندھ کے اس نظام میں رشوت اور کرپشن نہیں چل رہی؟ وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ کو ایک سال میں 2400 ارب روپے ملے ہیں، سندھ کے وزیر اعلی نے خط لکھ کر کراچی میں گرین لائن پر کام رکوا دیا۔ انہوں نے کہا کہ کیا میں ہتھیار اٹھا رہا ہوں، سڑک بند کر رہا ہوں یا ہڑتال کر رہا ہوں؟ مصطفی کمال نے کہا کہ کے فور منصوبے پر وفاق کا کام شہر میں لائنیں ڈالنا نہیں ہے، سندھ میں کرپشن اور رشوت کی وجہ سے کام نہیں ہورہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مصطفی کمال نے کہا کہ وفاقی وزیر صحت پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کر رہا ہوں کراچی میں انھوں نے وفاق کو ایم کی
پڑھیں:
صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
سٹی 42 : صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ کریں گے.
صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف پارٹی رہنماؤں اور ٹکٹ ہولڈرز سے ملاقاتیں بھی کریں گے ۔
میاں نواز شریف گلگت بلتستان میں انتخابات اور عوامی ترقی بارےتبادلہ خیال کریں گے ۔