ریلوے پولیس نے گزشتہ سال 658 گھروں سے بھاگ کر آنے والے لڑکے لڑکیوں کو پکڑا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
پاکستان ریلوے پولیس نے سال 2025 مجموعی طور پر 658 لڑکے لڑکیوں کو پکڑا جن میں 413 لڑکے اور 245 لڑکیاں شامل ہیں جو گھروں سے بھاگ کر مختلف ریلوے اسٹیشن اگئے تھے۔
ایکسپریس نیوز کو پاکستان ریلویز پولیس کی طرف سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان ریلوے پولیس نے سال 2025 مجموعی طور پر 658 لڑکے لڑکیوں کو پکڑا۔
جن میں 413 لڑکے اور 245 لڑکیاں شامل ہیں جو گھروں سے بھاگ کر مختلف ریلوے اسٹیشن اگئے تھے ان کو ان کے ورثہ کے حوالے کیا بھاگنے والے میں بچیاں بھی جن کی عمر 15 سے 18 سال کی ہیں وہ بھی شامل تھیں اور لڑکوں میں بھی 14سے لیکر 17 سال کی عمر کے لڑکے بھی شامل تھے۔
زیادہ تر 12 سے 15 سال کی عمر کے لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں جو گھر میں گھریلو حالات سے تنگ ا کر بھاگ کر یا تو اپنے عزیز و اقارب کی طرف جانے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر ریلوے اسٹیشن پر ہی گزارا کرتے ہیں۔
پاکستان ریلوے پولیس نے لاہور سمیت کراچی حیدراباد سکھر ملتان فیصل اباد پشاور کوئٹہ سمیت دیگر ریلوے اسٹیشن سے ان بچے بچیوں کو پکڑ کر ان کے والدین اور دیگر عزیز و اقارب کے حوالے کیا۔
ابتدائی معلومات اور تفتیش کے دوران زیادہ تر بچوں نے گھروں سے بھاگنے کی وجہ بے روزگاری کھانے پینے کی کمی اور والدین کی ڈانٹ ڈپٹ یا زبردستی ان کو کام کاج پر لگانے۔
سوشل میڈیا کی چکا چوند اور عشقِ پیار محبت سمیت اچھا لائف اسٹائل بنانے کے لیے گھر سے فرار ہونا قرار دیا۔
بے روزگار ی غربت مہنگائی کی وجہ سے معاشی حالات اس قدر خراب ہو گئے کہ لوگ اپنے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے بچیوں کو لوگوں کے گھروں میں کھانے پکانے صفائی ستھرائی اور دیگر کام کے لیے بھجوا دیتے ہیں اور پھر مہینوں مہینوں ان سے ملاقات نہیں کرتے یہ بچے یا تو وہاں سے بھاگ جاتے ہیں یا جب ان کو پتہ چلتا ہے کہ ان کے والدین یا عزیز و اقارب ان کو پڑھائی لکھائی کہ بجائے کہیں مزدوری کے لیے بھجوا رہے ہیں تو وہ بھی بھاگ جاتے ہیں۔
دوسری سب سے بڑی وجہ یہ سامنے ائی کہ جدید سہولیات میسر نہیں ہے اچھا ٹفن نہیں ملتا کیک پیزا برگر نوڈلز نہیں ملتے ٹفن میں روایتی پراٹھے یا روٹی یا املیٹ ہوتا ہے ان کو جیم معاملیٹ کے ساتھ سلائس نہیں دیے جاتے نہ ہی ان کو نوڈلز یا دیگر بچوں کی پسندیدہ چیزیں بنا کر دی جاتی ہیں۔
یہ بچے جب اسکولوں میں دوسرے بچوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ مختلف انواع کی چیزیں لے کر اتے ہیں تو وہ گھر جا کر اپنے والدین سے شکایتیں کرتے ہیں کہ ہمیں وہ بھی چیزیں کھلائیں لیکن والدین معاشی حالات خراب ہونے کی وجہ سے ان کو یہ چیزیں فراہم نہیں کر سکتے بلکہ الٹا ان کو مارتے پیٹتے ہیں۔
بچوں کو اسکول مدرسوں میں بھی مار پیٹ کا سامنا رہتا اور گھر آکر بھی یہی حالات ہوتے تو بچے بچیاں پھر فرار ہونے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔
ریلوے پولیس کے سئینر آفیسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ دوران تفتیش کچھ لڑکیوں نے بتایا کہ ان کی پسند کی شادی نہیں کی جارہی یا وہ فیس بک پر دوستی اور عشقِ کے چکر میں پڑ نے کے بعد گھروں سے قیمتی کپڑے اور رقم سمیت کچھ زیورات بھی ساتھ لے آئیں تھی، وہ سامان بھی واپس کیا۔
ریلوے اسٹیشن پر قائم ہیلپ ڈیسک پر آئے روز گھروں سے بھاگ کر آنے والے بچوں کو پکڑ کر ان کے ورثہ کے حوالے کیا جاتا ہے اور یہ عمل مکمل چھان بین اور کوائف دیکھنے کے بعد مکمل کیا جاتا ہے۔
ان کے والدین کو بھی سمجھاتے کہ وہ بھی اچھا سلوک کریں جو ممکن ہو وہ اپنے بچوں کو لیکر دیں اگر ان کی شکایات اسکول مدرسوں سے مارنے پیٹنے کی آرہی ہیں تو ان کے ٹیچر یا قاری صاحب سے پوچھیں جب بچوں کو پرتشدد ماحول ملے گا تو وہ گھروں سے فرار ہی ہونگے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گھروں سے بھاگ کر ریلوے پولیس نے ریلوے اسٹیشن نے والے بچوں کو وہ بھی
پڑھیں:
جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ کی پیرس میں پراسرار موت
فرانسیسی حکام کے مطابق امریکی مالیاتی شخصیت اور جنسی جرائم کے مقدمات میں نامزد جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے فرانسیسی ماڈلنگ اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے پیرس کے اپارٹمنٹ میں مردہ پائے گئے ہیں۔
69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیر کی شب ان کے اپارٹمنٹ سے ملی، جبکہ حکام نے موت کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے پوسٹ مارٹم کا حکم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جیفری ایپسٹین کا خفیہ سوسائیڈ نوٹ منظر عام پر، موت کا وقت ’خود چننے‘ پر اظہار اطمینان
سیاد کی وکیل مینیا عرب-ٹیگرین نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو بتایا کہ ان کے مؤکل کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری ذہنی دباؤ، عوامی بدنامی، طویل انتظار اور شدید اضطراب نے بھی ان کی صحت پر منفی اثرات ڈالے۔
Modeling scout Daniel Siad who introduced women to Jeffrey Epstein found dead in Paris pic.twitter.com/zMobl4buzz
— HatsOff (@HatsOffff) July 22, 2026
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ابتدائی طور پر دل کا دورہ موت کی وجہ معلوم ہوتا ہے، تاہم حتمی رائے پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی دی جا سکے گی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز میں ڈینیئل سیاد کا نام تقریباً 2 ہزار مرتبہ سامنے آیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ایک ای میل میں سیاد نے مبینہ طور پر ایپسٹین کو لکھا تھا کہ وہ بارسلونا میں موجود ہیں اور ان کے پاس آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون موجود ہے جسے وہ بارسلونا یا پیرس میں ماڈلنگ کے شعبے میں متعارف کرانا چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیں: جیفری ایپسٹین نے ذاتی معاملات کو دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی، بل گیٹس کا انکشاف
اس پر ایپسٹین نے مختصر جواب دیتے ہوئے صرف ’تصویر؟‘ لکھا تھا۔
اپریل 2009 کی ایک مبینہ ای میل میں سیاد نے براتسلاوا میں ماڈلز کی تلاش کے دوران ایک 17 سالہ سلوواک لڑکی کی تصاویر ایپسٹین کو بھیجی تھیں۔
پیرس کی پروسیکیوٹر لور بیکو کے مطابق انسانی اسمگلنگ اور فراڈ سے متعلق فروری میں شروع ہونے والی تحقیقات کے بعد اب تک کم از کم 24 خواتین ایسی سامنے آ چکی ہیں جنہوں نے ڈینیئل سیاد یا دیگر افراد کے خلاف مبینہ جرائم کے حوالے سے خود کو متاثرہ یا گواہ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: کیا سابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس کے شوہر نے جیفری ایپسٹین کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں سفر کیا؟
سیاد کی وکیل کا کہنا ہے کہ اگرچہ تفتیش کاروں نے ان سے متعلق تحقیقات کیں، لیکن فوری گرفتاری کے لیے کافی شواہد موجود نہیں تھے۔
’یہ بات فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ ڈینیئل سیاد کے خلاف کبھی مقدمہ نہیں چلایا گیا اور نہ ہی انہیں کسی عدالتی کارروائی میں باضابطہ طور پر نامزد کیا گیا۔‘
واضح رہے کہ امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین 2019 میں وفاقی تحویل کے دوران مردہ پائے گئے تھے، جبکہ ان کی موت کو سرکاری طور پر خودکشی قرار دیا گیا تھا، تاہم اس معاملے پر مختلف سوالات اور قیاس آرائیاں آج بھی جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا انسانی اسمگلنگ بارسلونا پوسٹ مارٹم جنسی جرائم جیفری ایپسٹین خودکشی ڈینیئل سیاد ماڈلنگ اسکاؤٹ