مغرب و امریکا کی جمہوریت کے نام پر اجارہ داری انسانیت دشمن نظام کی آئینہ دار ہے‘حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260124-01-19
اسلام آباد( ٍنمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے مغرب اور امریکہ کی جمہوریت کے نام پر اجارہ داری اور ظلم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے انسانیت دشمن نظام قرار دیا ہے۔ اسلام آباد میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے زیراہتمام احباب کنونشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مغرب کی پشت پناہی میں پاکستان سمیت کئی ممالک میں بدتریت جمہوریت موجود ہے، ایسے نظام کے ہوتے ہوئے عوام کو حقوق نہیں مل سکتے، زمین پر ایک ہی خدا کا حکم چلے گا، جماعت اسلامی دنیا بھر میں مظلوم انسانیت کے لیے آواز اٹھا رہی ہے اور پاکستان میں اسلام کے عادلانہ نظام کے قیام اور عوام کے حقوق کے لیے برسرِ پیکار ہے۔ اجتماع سے ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان حسن بلال ہاشمی ، امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا اور دیگر کئی راہنماؤں نے خطاب کیا۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں گزشتہ چار دہائیوں سے بھی زائد عرصہ سے طلبہ یونین پر پابندی ہے۔ حکمران اشرافیہ نہیں چاہتی کہ نچلی سطح سے قابل قیادت ابھر کر سامنے آئے ، یہ اپنی اجارہ داری برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین کے انتخابات ہوں تو جمعیت بڑی طاقت بن کر سامنے آئے۔ اسلامی جمعیت طلبہ اس وقت ایک سو سترہ اضلاع کے تعلیمی اداروں میں موجود ہے ، تاہم تعلیمی اداروں میں جمہوری سرگرمیوں پر پابندی کے ہوتے ہوئے جمعیت کی اصل طاقت سامنے نہیں آرہی۔ معاشرہ میں مجموعی جبر اور فرسودہ نظام کو ختم کرنے کے لیے ہم سب کو متحد ہوکر جدوجہد کو تیز کرنا ہوگا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان دو لخت ہوگیا ، مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا تاہم بنگلہ دیش کے عوام اب بھی ہمارے جسم اور قلب کا حصہ ہیں۔ آج بنگلہ دیش کے عوام میں پاکستان سے محبت اور بھارت سے نفرت کے شدید جذبات پائے جاتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں اسلامی جمعیت طلبہ نے طلبہ یونین کے کے حالیہ انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کی۔ امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ مغرب کی کھوکھلی جمہوریت اور انسانی حقوق کے دعوؤں کی ایک مثال غزہ کی ہے جہاں ہزاروں انسانوں کو شہید کردیا گیا ، شہر کو ملبہ کا ڈھیر بنا دیا گیا ، تاہم کسی نے اس پر آواز نہیں اٹھائی، ٹرمپ آج بھی اسرائیل کی مکمل پشت پناہی کررہا ہے ، اس نے وینزویلا کے صدر کو اہلیہ سمیت اغوا کرلیا لیکن مغرب اور اقوام متحدہ سمیت کوئی نہیں بولا۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، مغربی جمہوریت کا پردہ بھی چاک ہوگیا ہے، اس خلا کو اسلام کا عادلانہ نظام ہی پُر کر سکتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن اسلام آبادمیں اسلامی جمعیت طلبہ کے زیر اہتمام احباب کنونشن سے خطا ب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی اسلامی جمعیت طلبہ میں اسلام بنگلہ دیش حافظ نعیم نے کہا کہ اسلام ا
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔