غلامی قبول نہیں، مشرف کیخلاف نکل سکتا تھا تو ہم اب بھی باہر آسکتے ہیں، مولانا فضل الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت، امریکا، اسرائیل اور حالیہ قانون سازی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف کھڑے ہو سکتے تھے تو موجودہ حکمرانوں اور ان کی پالیسیوں کے خلاف بھی نکل سکتے ہیں۔
مولانافضل الرحمن کا کہنا تھا کہ غلامی اگر نواز شریف اور شہباز شریف قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم غلامی کسی صورت قبول نہیں کریں گے، امریکا ماضی میں افغانستان، عراق اور لیبیا کو تباہ کر چکا ہے اور اب بھی خطے میں عدم استحکام پھیلایا جا رہا ہے، اسرائیل ایران پر حملے کے بعد تفتان کی سرحد پر کھڑا ہوگا۔
مولانا فضل الرحمان نے پیس بورڈ سے متعلق نکات پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر طے شدہ نکات میں تبدیلیاں ہوئیں تو پھر اس فورم میں شرکت کی ضرورت کیوں پیش آئی، ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کی جارحانہ قوت کو تقویت دے رہا ہے اور حماس کو کھلی دھمکیاں دی جا رہی ہیں،ایسے فورمز میں شرکت ہو رہی ہے جن کا آغاز ہی دھمکیوں سے ہوتا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے اسرائیل کے پہلے صدر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے عزائم شروع دن سے اسلامی ریاستوں کے خاتمے سے جڑے رہے ہیں، اس کے باوجود ہم ان کے پیچھے دوڑ رہے ہیں، اگر اقوام متحدہ میں اسرائیل کی موجودگی کو بنیاد بنا کر اس کے ساتھ بیٹھا جا سکتا ہے تو پھر پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل جانے کی پابندی کیوں عائد ہے، اتنے بڑے فیصلے کرتے وقت پارلیمنٹ اور کابینہ کو اعتماد میں لینا ضروری تھا، مگر وزیراعظم نے ایوان کو اعتماد میں نہیں لیا۔
خطاب کے دوران مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیر خارجہ خود تسلیم کر چکے ہیں کہ ٹرمپ کے ابتدائی نکات وہ نہیں تھے جو طے ہوئے تھے تو کیا وہ اعتراضات بعد میں دور ہو گئے یا بغیر پڑھے دستخط کر دیے گئے، اسرائیل حماس کو کچلنے کے بعد ایران اور پھر پاکستان کے خلاف تیاری کر رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے 18 سال سے کم عمر شادیوں سے متعلق قانون سازی کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے ایوان میں شدید احتجاج ریکارڈ کرایا، اس قانون کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا جانا چاہیے تھا،وہ اس قانون کی خلاف ورزی کریں گے اور اعلان کیا کہ وہ کم عمر شادیوں کی خود نگرانی کریں گے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر آئین میں اسلامی جمہوریہ پاکستان لکھا گیا ہے تو پھر قوانین بھی اسلامی اصولوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔ انہوں نے موجودہ شرائط پر پیس بورڈ کو مسترد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 25 کروڑ عوام کو ہانکنا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان نے ہوئے کہا کہا کہ
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔