data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت، امریکا، اسرائیل اور حالیہ قانون سازی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف کھڑے ہو سکتے تھے تو موجودہ حکمرانوں اور ان کی پالیسیوں کے خلاف بھی نکل سکتے ہیں۔

مولانافضل الرحمن کا کہنا تھا کہ غلامی اگر نواز شریف اور شہباز شریف قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم غلامی کسی صورت قبول نہیں کریں گے، امریکا ماضی میں افغانستان، عراق اور لیبیا کو تباہ کر چکا ہے اور اب بھی خطے میں عدم استحکام پھیلایا جا رہا ہے، اسرائیل ایران پر حملے کے بعد تفتان کی سرحد پر کھڑا ہوگا۔

مولانا فضل الرحمان نے پیس بورڈ سے متعلق نکات پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر طے شدہ نکات میں تبدیلیاں ہوئیں تو پھر اس فورم میں شرکت کی ضرورت کیوں پیش آئی، ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کی جارحانہ قوت کو تقویت دے رہا ہے اور حماس کو کھلی دھمکیاں دی جا رہی ہیں،ایسے فورمز میں شرکت ہو رہی ہے جن کا آغاز ہی دھمکیوں سے ہوتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے اسرائیل کے پہلے صدر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے عزائم شروع دن سے اسلامی ریاستوں کے خاتمے سے جڑے رہے ہیں، اس کے باوجود ہم ان کے پیچھے دوڑ رہے ہیں، اگر اقوام متحدہ میں اسرائیل کی موجودگی کو بنیاد بنا کر اس کے ساتھ بیٹھا جا سکتا ہے تو پھر پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل جانے کی پابندی کیوں عائد ہے، اتنے بڑے فیصلے کرتے وقت پارلیمنٹ اور کابینہ کو اعتماد میں لینا ضروری تھا، مگر وزیراعظم نے ایوان کو اعتماد میں نہیں لیا۔

خطاب کے دوران مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیر خارجہ خود تسلیم کر چکے ہیں کہ ٹرمپ کے ابتدائی نکات وہ نہیں تھے جو طے ہوئے تھے تو کیا وہ اعتراضات بعد میں دور ہو گئے یا بغیر پڑھے دستخط کر دیے گئے، اسرائیل حماس کو کچلنے کے بعد ایران اور پھر پاکستان کے خلاف تیاری کر رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے 18 سال سے کم عمر شادیوں سے متعلق قانون سازی کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے ایوان میں شدید احتجاج ریکارڈ کرایا، اس قانون کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا جانا چاہیے تھا،وہ اس قانون کی خلاف ورزی کریں گے اور اعلان کیا کہ وہ کم عمر شادیوں کی خود نگرانی کریں گے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر آئین میں اسلامی جمہوریہ پاکستان لکھا گیا ہے تو پھر قوانین بھی اسلامی اصولوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔ انہوں نے موجودہ شرائط پر پیس بورڈ کو مسترد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 25 کروڑ عوام کو ہانکنا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان نے ہوئے کہا کہا کہ

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ