بھارت‘ 5شادیاں کرنے والی ’لٹیری دلہن‘ کو قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں چونکا دینے والے جرم کی کہانی اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئی۔بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست مدھیہ پردیش میں مردوں کو بیوقوف بناکر 5شادیاں کرکے جائداد سے محروم کردینے والی لْٹیری دلہن کو 2 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ضلعی و سیشن عدالت کی جج میگھا اگروال نے کہا کہ ملزمہ نے دانستہ طور پر ایسے مردوں کو نشانہ بنایا جو تنہا زندگی گزار رہے تھے۔ سماعت کے دوران لْٹیری دلہن کے شادی کے بعد شوہروں پر مالی دباؤ ڈالنے بلکہ بعض کیسز میں ذہنی اور جسمانی ہراسانی کے الزامات بھی سامنے آئے۔یاد رہے کہ یہ معاملہ اْس وقت سامنے آیا جب متاثرہ شوہروں میں سے ایک نے شکایت درج کرائی۔اس شخص کا الزام تھا کہ خاتون نے خود کو غیر شادی شدہ ظاہر کیا تھا اور شادی کے بعد پتا چلا کہ پہلے 4 شادیاں کرچکی ہے۔پولیس تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزمہ حسینہ اکیلے یہ کھیل نہیں کھیل رہی تھی بلکہ اس کی بیٹیاں اور داماد بھی دھوکا دہی کے اس نیٹ ورک کا حصہ تھے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ طلاق کے بغیر بار بار شادی کرنا نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ معاشرے میں شادی جیسے مقدس رشتے پر اعتماد کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔