کراچی‘ بحری جہاز کی ٹکر سے مسافر بردار کشتی ڈوب گئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260124-08-20
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ڈاکس تھانے کی حدود میں واقع منوڑا کے گہرے سمندر میں افسوسناک حادثہ پیش آیا، جہاں مسافروں سے بھری ایک کشتی توازن برقرار نہ رکھ پانے کے باعث الٹ گئی۔ واقعے کے فوری بعد نیوی اور دیگر ریسکیو اداروں نے بڑے پیمانے پر امدادی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ منوڑا کے قریب گہرے سمندر میں کشتی ڈوبنے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ کشتی میں مجموعی طور پر 10 افراد سوار تھے، جو سمندر کی لہروں کی نذر ہو گئے۔ لائف گارڈز اور ریسکیو ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 6 افراد کو سمندر سے زندہ نکال لیا ہے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ بد قسمتی سے 4 افراد تاحال لاپتا ہیں، جن کی تلاش کے لیے غوطہ خوروں کی مدد لی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سمندر میں لہروں کی تیزی کے باعث سرچ آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کے پیشِ نظر جائے وقوع پر مزید اضافی ٹیمیں اور جدید کشتیاں روانہ کر دی گئی ہیں۔ لاپتا افراد کی تلاش کے لیے علاقے کا محاصرہ کر کے گہرے پانیوں میں سرچنگ کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ حادثہ کشتی میں گنجائش سے زائد افراد کی موجودگی یا سمندر کی بپھری ہوئی لہروں کے باعث پیش آیا۔ تاہم پولیس اور ضلعی انتظامیہ اس بات کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا کشتی میں حفاظتی اقدامات اور لائف جیکٹس موجود تھیں یا نہیں۔ حکام نے شہریوں اور ماہی گیروں کو سمندر کی صورتحال کے پیشِ نظر احتیاط برتنے اور حفاظتی ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔