منوڑہ کے قریب سمندر میں کشتی ڈوب گئی، ریسکیو آپریشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں منوڑہ کے قریب سمندر میں افسوسناک حادثہ پیش آیا جہاں ایک مسافر کشتی بحری جہاز سے ٹکرا کر ڈوب گئی، حادثے کے وقت کشتی میں 10 مسافر سوار تھے۔ واقعے کے بعد ریسکیو اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو بچا لیا، جبکہ باقی لاپتا مسافروں کی تلاش تاحال جاری ہے۔
رپورٹس کے مطابق سندھ حکومت کے حکام نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حادثہ چائنہ پورٹ کے قریب پیش آیا، جہاں ایک بحری جہاز کشتی سے ٹکرا گیا،کشتی میں مجموعی طور پر 10 افراد موجود تھے، جن میں سے 6 مسافروں کو فوری طور پر ریسکیو کر لیا گیا جبکہ 4 افراد سمندر میں لاپتا ہو گئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے منوڑہ کے قریب کشتی ڈوبنے کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، ریسکیو آپریشن میں تیزی لائی جائے اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر انسانی جانوں کو بچایا جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ڈی سی کیماڑی کو بھی ہدایت جاری کی کہ وہ اپنی ٹیم موقع پر بھیج کر ریسکیو آپریشن کی نگرانی یقینی بنائیں۔
دوسری جانب پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی (ایم ایس اے) نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں، حادثے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جن میں عملے کی ممکنہ کوتاہی، بحری جہاز کی رفتار، نیوی گیشن قوانین کی خلاف ورزی اور تیز ہواؤں یا خراب موسمی حالات کا کردار شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق ایم ایس اے اور دیگر ریسکیو ادارے مشترکہ طور پر سرچ آپریشن میں مصروف ہیں، تازہ کارروائی کے دوران 7 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے، جبکہ 4 افراد کی تلاش جاری ہے،ریسکیو شدہ افراد کی تعداد سے متعلق مختلف اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جن کی تصدیق کی جا رہی ہے۔
ریسکیو ٹیموں کی جانب سے کشتی کے ممکنہ ملبے اور متاثرہ علاقے کی سرچنگ کا عمل جاری ہے، جبکہ لاپتا افراد کے اہل خانہ میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ سرچ آپریشن مکمل ہونے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے قریب
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔