گل پلازہ سانحہ: ریسکیو حکام کا گراؤنڈ فلور میں لاشوں کے موجود ہونے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: گل پلازہ میں پیش آنے والے المناک سانحے کے بعد ریسکیو 1122 کے ڈی جی بریگیڈیئر ریٹائرڈ صبغت اللہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عمارت کے گراؤنڈ فلور پر بھی لاشیں موجود ہو سکتی ہیں۔
ریسکیو 1122 کے ڈی جی بریگیڈیئر ریٹائرڈ صبغت اللہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق آگ میں 85 افراد لاپتا ہوئے تھے، جن میں سے تقریباً 64 افراد کی لاشیں اب تک برآمد ہو چکی ہیں۔
بریگیڈیئر صبغت اللہ نے مزید کہا کہ عمارت کا 10 سے 15 فیصد حصہ وہ ہے جہاں ریسکیو ٹیمیں ابھی تک پہنچ نہیں سکیں اور آج ان حصوں میں بھی تلاش جاری رہے گی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جی پی ایس ریڈار کے ذریعے نگرانی کے دوران کسی زندہ فرد کی موجودگی نہیں دیکھی گئی اور ابتدائی طور پر آگ کے پھیلاؤ کی وجہ ڈک کے ذریعے لگائی گئی آگ بتائی گئی ہے۔
دوسری جانب سینئر فائر آفیسر ظفر خان نے کہا کہ سانحے کے بعد ملبے سے مکمل لاشیں نہیں مل رہیں، بلکہ زیادہ تر ہڈیاں برآمد ہو رہی ہیں، جو کہ اس حادثے کی شدت اور تباہ کاری کا عندیہ دیتی ہیں۔
واضح رہے کہ گل پلازہ میں یہ المناک واقعہ 17 جنوری کی رات تقریباً 10 بجے کے بعد پیش آیا، جس کے نتیجے میں اب تک 67 افراد جاں بحق جبکہ 77 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ تلاش اور ریسکیو آپریشن جاری ہے اور ممکنہ طور پر مزید انسانی باقیات ملبے سے برآمد ہو سکتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔