منافقت اور عیسائیت کا قلعہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پچھلے دنوں ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کی طاقت ور چیٹ بوٹ ’’گروک‘‘ پر ایک نیا فیچر متعارف کرایا گیا جس میں کسی بھی شخص کی تصویر سے لباس اُتار کر اسے برہنہ اور جنسی طور پر متنازع دکھایا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے کا آغاز ہوتے ہی سوشل میڈیا پر مشہور شخصیات اور ان گنت بچوں کی اس طرح کی تصاویر شیئر کی جانے لگیں۔ اس پر 12جنوری کو یورپی کمیشن کی صدر ارسولاوون ڈیر لائیںکا ایک سخت مذمتی بیان سامنے آیا ’’میں صدمے میں ہوں کہ ایک ٹیک پلیٹ فارم صارفین کو بچوں کو ڈیجیٹلی بے لباس کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔ یہ ناقابل ِ تصور حرکت ہے اور اس کے نقصانات بہت حقیقی ہیں۔ یورپی یونین بچوں اور لوگوں کی حفاظت کو سلیکون ویلی کے سپرد نہیں کرے گا۔ اگر پلیٹ فارمز نے خود اس نقصان دہ مواد کی تیاری اور پھیلائو کو روکنے میں موثر قدم نہ اٹھائے تو یورپی قانون سازی خود قدم اٹھائے گی‘‘۔ بچوں کے باب میں اس حساسیت کے بعد اب بچوں کے حوالے سے ہی ایک رپورٹ ملا حظہ فرمائیے:
ستمبر 2025 میں ایک بین الاقوامی ادارے ’’Save the Children‘‘ کی ایک رپورٹ میں فلسطینی بچوں پر ڈھائے گئے دلدوز مظالم کی تفصیلات دی گئی تھیں جن میں کہا گیا تھاکہ اکتوبر 2023 سے ستمبر 2025 تک اسرائیلی فوجیوں کی جارحیت کے نتیجے میںہر گھنٹے میں اوسطاً ایک فلسطینی بچے کی ہلاکت ہوئی ہے یعنی 20 ہزار سے زیادہ فلسطینی بچے اس دوران شہید ہوئے جو ان 75 ہزار افراد میں شامل ہیں جو اسرائیلی نسل کشی کے نتیجے میں غزہ میں شہید ہوئے اور تقریباً21 ہزار سے زیادہ بچے زخمی اور مستقل معذور ہوئے ہیں (یہ تعداد امریکا اور اسرائیل کے ایجنڈے پر کام کرنے والے مغربی میڈیا کے ذریعے سامنے آئی ہیں ورنہ اصل تعداد ڈھائی سے تین لاکھ ہے اس تناسب سے بچوں کی تعداد اندازہ کر لیجیے) رپورٹ میں غزہ میں 97 فی صد اسکول اور 94 فی صد اسپتال مکمل طور پر تباہ ہونے کا بھی ذکر ہے۔
غزہ میں اس تمام بربادی، بچوں کی ہلاکتوں اور معذوریوں پر یورپی یونین اور یورپی حکومتیں زیادہ تر خاموش رہیں یا پھرد قیاسی تجارتی پابندیوں کی پیش کش، انفرادی پابندیوں اور سفارشات تک محدودرہیں۔ بیش تر ممالک، امریکا، برطانیہ اور جرمنی اس دوران بھی اسرائیل کے ’’حق دفاع‘‘ اور اس کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے رہے اور ہتھیاروں اور مالی امدادکی ترسیل بدستور اسے جاری رکھی۔ ایران کی طرح اسرائیل پر منظم، سخت اور مکمل معاشی یا فوجی پا بندیاں نافذ کرنا تو درکنار اس کا سوچا بھی نہیں گیا۔ بچوں کو ڈیجیٹلی برہنہ کرنے پر شدید ردعمل بجا اور قابل تحسین ہے لیکن یہ ردِعمل، احتجاج اور غصہ فلسطینی بچوں کی 40 ہزار سے زائد ہلاکتوں، زخمی اور معذور ہونے اور ’’لائیو نسل کشی‘‘ پر کیوں سامنے نہیں آیا۔ کیوں یورپی یونین کی صدر نے ان ’’جسمانی ہلاکتوں‘‘ پر اسرائیل کی اس طاقت سے کبھی مذمت نہیں کی، جب کہ یہ ہلاکتیں بچوں کی ’’ڈیجیٹلی برہنہ‘‘ تصاویر سے کہیں زیادہ ناقابل ِ تصور اور ہلاکت خیز تھیں۔ کیا صرف اس لیے کہ وہ بچے فلسطینی اور مسلمان تھے؟ یورپ کے نزدیک ان بچوں کی جان مال اور عزتوں کو وہ درجہ حاصل نہیں تھا جو دیگر بچوں کو حاصل ہے؟ کیوں یورپی اور عالمی انسانی حقوق کے چارٹر فلسطینی بچوں کے معاملے میں بے معنی ہو کررہ جاتے ہیں؟؟ فلسطینی بچوں کی جان مال اور آبرو بے وقعت ہے، یورپی ضمیر کے ترازو میں اس کا کوئی وزن نہیں کیونکہ قاتل ایک اتحادی یہودی ریاست ہے۔
اب آئیے ایک اور زاویے سے مغرب کی منافقت اور دوہرے معیار کا جائزہ لیتے ہیں۔ صدر ٹرمپ جب سے برسر اقتدار آئے ہیں وہ گرین لینڈ کو امریکا کا حصہ بنانے، زبردستی لینے اور چھیننے کی ایک تواتر سے باآواز بلند دھمکیاں دیتے رہتے ہیں کہ یہ امریکا کی قومی سلامتی کا حصہ ہے۔ فرانس کے صدر میکروں نے یورپ کی نمائندگی کرتے ہوئے اس پر کہا ’’اگر کسی یورپی ملک اور اس کے اتحادی کی خود مختاری متاثر ہوئی تو اس کے نتائج ناقابل تصور ہوں گے۔ فرانس ڈنمارک اور اس کی خود مختاری کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے‘‘۔
گرین لینڈ، دنیا کے سب سے بڑے جزیرے، کی کل آبادی محض 56 سے 57 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ کل رقبے کا صرف ایک فی صد سے بھی کم حصہ ایسا ہے جہاں انسان مستقل رہائش رکھتے اور صرف کناروں یا ساحلی پٹی (coastal areas) پر سمٹے ہوئے ہیں۔ تقریباً 80 فی صد حصہ مستقل برف سے ڈھکا ہوا ہے۔ 20 فی صد یا اس سے بھی کم رقبہ ایسا ہے جو سال کے کچھ حصے میں برف سے خالی رہتا ہے۔ اس معمولی سی آبادی کے ملک پر یورپ کی حساسیت آپ نے ملاحظہ کی اب آئیے ایران کی طرف جہاں 8 سے 9 کروڑ انسان بستے ہیں۔ فی مربع کلو میٹر پر 50 سے 60 انسان آباد ہیں جب کہ گرین لینڈ میں یہ تناسب ایک فرد سے بھی کم تقریباً نا ہونے کے برابر ہے۔ ایران انسانی آبادی، شہروں، نسلی ولسانی گروہوں، تہذیب وثقافت، معیشت، سیاست، تاریخ اور جغرافیہ کی گہری اور ناقابل فراموش جہتیں رکھتا ہے جب کہ گرین لینڈکی اہمیت محض جغرافیائی ہے۔
28 دسمبر 2025 سے شروع ہونے والے ہنگامے خالصتاً ایران کا داخلی معاملہ تھے لیکن امریکا اور اسرائیل ان ہنگاموں میں اس طرح شامل ہوئے جیسے ایران ان کا حصہ ہو۔ صدر ٹرمپ نے مظاہرین کو اشتعال دلاتے ہوئے کہا کہ ’’آپ باہر نکلیں اور اداروں پر قبضہ کرلیں‘‘۔ اگر ایران یا پاکستان نے امریکا میں آئے دن ہونے والے مظاہروں کے شرکاء سے اس طرح کی اپیل کی ہوتی کہ ’’آپ باہر نکلیں اور وائٹ ہائوس پر قبضہ کرلیں‘‘ تو امریکا میں ایک ہنگامہ برپا ہوجاتا یورپی ممالک اور میڈیا بڑھ چڑھ کر جس کی مذمت میں شامل ہوتا۔ یورپی ممالک نے اس طرح کے غیر ذمے دارانہ بیانات پر مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی، جب کہ صدر ٹرمپ نے مظاہرین سے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’ہم آپ کو امداد بھی بھیج رہے ہیں‘‘۔ ٹرمپ کے ساتھ ساتھ اسرائیل نے بھی مظاہرین سے صاف کہا کہ ’’موساد سڑکوں پر آپ کے ساتھ موجود ہے‘‘۔ اسرائیل اور امریکا نے ایران پر جو جنگ مسلط کرنا چاہی تھی اس میں ایران سمیت پورا مشرق وسطیٰ آگ کا گولہ بن جاتا، کروڑوں انسانوں کی زندگیاں موت کے دہانے تک پہنچ جاتیں لیکن یورپی ممالک نے ادنیٰ درجے میں بھی اخلاقی تحفظات کا اعلان نہیں کیا۔ گرین لینڈ سے آبادی کے عظیم فرق کے باوجود ایران پر جنگ کے حوالے سے اس پریشانی کا اظہار نہیں کیا گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ مغرب (امریکا اور یورپ) آج بھی عیسائی دنیا ہے اور مسلمانوں کے مقابلے میں صلیبی جنگوں کے زمانے میں سانس لے رہا۔ صدر بش جونیر نے نائن الیون کے بعد جب دہشت گردی کو This crusade,this war on terrorism کہا تھا یہ زبان کی لغزش نہیں تھی یہ عیسائی لا شعور کی زبان تھی۔ آج مغرب خود کو مذہب سے بیگانہ، سیکولر اور روشن خیال کہتا ہے لیکن عملی سیاست میں اسلام کے باب میں اس کے نزدیک مسلمان ایک مشکوک تہذیب اور اسلام دنیا کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، فلسطینی مسلمان بچے عورتیں اور مرد ’’کو لیٹرل ڈمیج۔۔ ضمنی نقصان‘‘ اور امن معاہدے کے باوجود غزہ پر بمباری معمولات کا حصہ ہے جو شام کی بربادی پر خاموشی اختیار کرتا ہے، امریکی پابندیوں کے نتیجے میں 5 لاکھ عراقی بچوں کی ہلاکت کو ’’قابل قبول‘‘ سمجھتا ہے اور ایران پر پابندیوں کو انسانوں کے لیے خطرہ تصور نہیں کرتا کیونکہ یہ انسان مسلمان ہیں۔ مغربی عیسائی دنیا نے زبان وبیان کے جو نئے زاویے تراشے ہیں ان میں صلیبی جنگوں کا لفظ کم سے کم استعمال کیا جاتا ہے اس میں مسلمانوں کے لیے دہشت گرد، صلیب کے لیے ناٹو، فتح کے لیے رجیم چینج اور مقدس جنگ کے لیے وار آن ٹیرر کی اصطلاحات اور الفاظ مستعمل ہیں۔ اسرائیلی جارحیت اور تشدد ’’حق دفاع‘‘ اور فلسطینیوں کی مزاحمت دہشت گردی۔ یہ محض میڈیا کی زبان اور اسرائیل کی سیاسی حمایت نہیں عیسائی دنیا کی ’’تہذیبی شناخت کی حفاظت‘‘ ہے۔ اسرائیل جس میں آج بھی صلیبی جنگوں کے وقت کا ’’عیسائیت کا قلعہ‘‘ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فلسطینی بچوں گرین لینڈ بچوں کی کے ساتھ نہیں کی کا حصہ اور اس ہے اور کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔