data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے فرمایا ہے کہ 18 ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ بن چکی ہے اور کئی سال گزرنے کے باوجود اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل نہیں کیا جا سکا۔ اْنہوں نے پارلیمنٹ میں یہ شعلہ بیانی کراچی میں گل پلازا کے سانحے پر گفتگو کرتے ہوئے کی جہاں آگ لگنے کے بعد بروقت امدادی کارروائیاں نہ ہو سکیں اور بڑی تعداد میں لوگ جل کر مر گئے۔ حکومت کے وزراء کے ساتھ ساتھ اس کی ایک اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان بھی سندھ حکومت پر خوب برس رہی ہے کیونکہ کراچی کے میئر کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔ کراچی میں آتشزدگی، ڈمپر ٹرکوں کے حادثات میں اموات اور کھلے مین ہولوں میں بچوں کے گرنے کے واقعات پہلے بھی ہوتے تھے لیکن اب ان واقعات پر عوامی در عمل بڑھ رہا ہے کیونکہ صرف کراچی نہیں بلکہ پاکستان کے ہر بڑے شہر میں مختلف سرکاری محکمے ایک دوسرے کے دائرہ اختیار میں مداخلت کر رہے ہیں اور اس مداخلت نے دراصل آئین وقانون کو ہی ایک ڈھکوسلہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گل پلازا میں جو کچھ ہوا اْس کی اصل وجہ یہ ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے اپنا کام صحیح نہیں کیا۔ اس پلازے میں ناجائز تعمیرات کی گئیں جو موجودہ صوبائی حکومت کے علم میں بھی تھیں لیکن پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ جب کوئی محکمہ یا کوئی ایماندار افسر قانون پر عمل درآمد کی کوشش کرتا ہے تو کوئی نہ کوئی ایم این اے یا ایم پی اے اس کا ٹرانسفر کروا دیتا ہے۔ 18 ویں ترمیم صرف سندھ میں نہیں بلکہ پورے پاکستان میں ایک ڈھکوسلہ بنی ہوئی ہے۔
محترم خواجہ محمد آصف صاحب کو چاہیے کہ سابق آئی جی موٹروے ذوالفقار احمد چیمہ کی حال ہی میں شائع ہونے والی خود نوشت ’’جہد مسلسل‘‘ پڑھیں تو انہیں پتا چلے گا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ارکان اسمبلی بھی ہیں جو پارلیمنٹ کو تو با اختیار نہ بنا سکے لیکن اپنے اپنے حلقے کے ایس پی اور ڈی سی کے اختیارات خود استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ذوالفقار احمد چیمہ بھی خواجہ محمد آصف کی طرح اولڈ راوین ہیں۔ چیمہ صاحب نے کسی زمانے میں سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کو اولڈ راونیز ایسوسی ایشن کا صدر بنوایا اور اْن کی کافی قربت حاصل کی۔ اس قربت کے نتیجے میں انہیں کچھ ایسے تاریخی واقعات کا علم ہو گیا جو انہوں نے بڑی احتیاط سے اپنی خود نوشت کی زینت بنا دیے۔ جسٹس نسیم حسن شاہ 1993ء میں نواز شریف کی حکومت کو بحال کرنے کا بڑا کریڈٹ لیا کرتے تھے۔ چیمہ صاحب لکھتے ہیں کہ اس تاریخی فیصلے سے چند دن قبل چیف جسٹس نے اْس وقت کے آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ کو فون کیا اور اْن سے بات کرنا چاہی۔ جنرل وحید کاکڑ نے چیف جسٹس کے ساتھ گفتگو سے گریز کیا کیونکہ وہ ایک پروفیشنل سولجر تھے۔ چیف جسٹس نے بار بار آرمی ہائوس فون کیے تو آرمی چیف نے اپنے اسٹاف آفسیر سے کہا کہ اْن سے پوچھو وہ کس سلسلے میں بات کرنا چاہتے ہیں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے کل حکومت کو بحال کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ سنانا ہے اس سلسلے میں آرمی چیف سے پوچھنا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ آرمی چیف نے یہ پیغام سْن کر چیف جسٹس صاحب کو جواب میں پیغام بھیجا کہ ہم آپ کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کریں گے آپ اپنی مرضی سے فیصلہ کر لیں۔ اگلے دن نسیم حسن شاہ نے نواز شریف حکومت بحال کر دی لیکن صدر غلام اسحاق خان کو چین نہ آیا۔ انہوں نے بحال شدہ حکومت کو بھی پسپائی پر مجبور کر دیا۔ صدر اور وزیر اعظم کی اس لڑائی کو 18 ویں ترمیم نے ختم کیا لیکن اس ترمیم کا اصل مقصد تو اختیارات کو بلدیاتی حکومتوں تک منتقل کرنا تھا۔ یہ کام آج تک نہیں ہوا اور بلدیاتی اداروں کے اختیارات پر صوبائی حکومتوں کا ناجائز قبضہ ہے جو سندھ اور پنجاب میں سب کو نظر آ رہا ہے۔
چیمہ صاحب نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جب وہ وزیر اعظم نواز شریف کے پرسنل اسٹاف آفیسر تھے تو سینیٹر سیف الرحمان کو احتساب بیورو کا سربراہ بنایا گیا۔ وزیر اعظم نے چیمہ صاحب اور ایک پولیس افسر پرویز راٹھور سے کرپٹ افسران کی فہرستیں بنوائیں لیکن سیف الرحمان نے اپنی مرضی کی ایک فہرست بنا کر کارروائیاں شروع کر دیں۔ ذوالفقار احمد چیمہ وزیر اعظم کی مختلف ججوں سے ملاقاتیں کراتے جو وزیر اعظم کو احتساب میں انصاف کی اہمیت سمجھاتے تھے۔ ایسی ہی ایک ملاقات کے دوران وزیر اعظم صاحب نے جسٹس عبد الحفیظ چیمہ سے پوچھا کہ کوئی ایسا طریقہ بتائیں کہ پرائم منسٹر اہم فیصلوں کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری کا محتاج نہ رہے۔ اس پر جج صاحب نے کہا ’’نہیں میاں صاحب آپ پارلیمنٹ اور آئین کو بائی پاس نہیں کر سکتے‘‘۔ ایک دفعہ ذوالفقار احمد چیمہ نے وزیر اعظم کو کراچی پولیس کے دو شہید افسروں کے گھر جاکر تعزیت کرنے پر راضی کر لیا تاکہ حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کو پولیس افسران پر حملوں سے روکا جا سکے۔ ایم کیو ایم نے وزیر اعلیٰ سندھ لیاقت جتوئی پر دبائو ڈال کر وزیر اعظم کو شہید افسران کے گھر نہ جانے پر مجبور کر دیا۔ چیمہ صاحب نے ہمت نہ ہاری اور شہید افسران کے اہل خانہ کو گورنر ہائوس بلا کر وہاں اْن کی وزیر اعظم سے ملاقات کروا دی۔ ایک شہید ڈی ایس پی کی بیوہ اور ایک شہید انسپکٹر کی بیٹی نے جب ایم کیو ایم والوں کے ظلم کے واقعات سنائے تو وزیر اعظم آبدیدہ ہو گئے۔ انہوں نے آئی جی کو طلب کر لیا۔ آئی جی آفتاب نبی حاضر ہو گئے جو ایم کیو ایم کے ایک رکن قومی اسمبلی کے بھائی تھے۔ وزیر اعظم نے آئی جی سے پوچھا اس بیوہ کا شوہر اور اس بیٹی کا باپ کس نے قتل کیا؟ آئی جی نے لڑکھڑاتی زبان میں کہا کہ ان پولیس افسران کو ایم کیو ایم کے عسکری ونگ نے قتل کیا۔ وزیر اعظم نے پوچھا کس نے قتل کا حکم دیا؟ آئی جی نے کہا سیکٹر کمانڈر نے۔ وزیر اعظم نے پوچھا اْسے کس نے کہا؟ آئی جی ڈرتے ڈرتے بولے سر اْس کے کمانڈر نے۔ اس موقع پر لیاقت جتوئی درمیان میں آئے اور آئی جی کو مزید انکوائری سے بچانے کے لیے وزیراعظم سے کہا فکر نہ کریں میں آپ کو ایک ہفتے میں ساری رپورٹ دوں گا۔ یوں ایم کیو ایم سے خوفزدہ لیاقت جتوئی نے پولیس افسران کے قاتلوں کو وزیراعظم کے سامنے بے نقاب ہونے سے بچا لیا۔
چیمہ صاحب نے ایک اور واقعہ بھی لکھا ہے جب وہ راولپنڈی کے ایس پی ہوا کرتے تھے اور شہر میں جوئے کے اڈوں کو بند کرانے نکلے تو پتا چلا کہ شہر میں جوئے کے اڈوں کے سرپرست شہر کے ایم این اے شیخ رشید احمد ہیں۔ شیخ صاحب کا آئیڈیل ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین تھے اور بقول چیمہ صاحب وہ راولپنڈی کا الطاف حسین بننا چاہتے تھے۔
جب شیخ رشید احمد کی مرضی کے خلاف جوئے کے اڈوں پر چھاپے شروع ہوئے تو شیخ صاحب نے وزیر اعلیٰ نواز شریف سے شکایت کی کہ ایس پی نے مسلم لیگ کے ورکروں کی بے عزتی کرنی شروع کر دی ہے۔ کمشنر راولپنڈی سعید مہدی نے ایس پی کی حمایت کی لیکن وزیر اعلیٰ نے ایک ایم این اے کے شور و غل پر ایس پی کو ٹرانسفر کر دیا۔ بعد میں جب پیپلز پارٹی کے دور میں شیخ صاحب پر ناجائز اسلحے کا کیس بنایا گیا تو ذوالفقار احمد چیمہ اس پر خوش نہ تھے۔ پھر وقت گزرنے کے بعد شیخ صاحب نے نواز شریف کے ساتھ بے وفائی کی اور جنرل پرویز مشرف سے جا ملے۔ آج کل وہ عمران خان سے بے وفائی کا داغ لیے خاموش بیٹھے ہیں۔ ذوالفقار احمد چیمہ لکھتے ہیں وہ ایک دن وزیر اعظم نواز شریف کو حبیب جالب کی وفات پر تعزیت کے لیے اْن کے گھر لے گئے۔ اس سے پہلے کہ وزیراعظم مرحوم کے خاندان کے لیے پلاٹ یا رقم کا اعلان کرتے تو بیگم حبیب جالب نے وزیر اعظم سے کہا کہ ہمیں آپ سے کچھ نہیں چاہیے آپ نے حبیب جالب کے گھر آکر ہم پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ آپ نے تو اپنی عزت میں اضافہ کیا ہے۔ یہ سْن کر وزیر اعظم کا رنگ لال ہو گیا۔ واپسی پر چیمہ صاحب نے بڑی مشکل سے وزیر اعظم کا غصہ دور کیا اور کہا کہ زندگی کے دکھوں نے ایک خوددار بیوہ کا لہجہ تلخ کر دیا آپ نظرانداز کر دیں لیکن وزیراعظم کا غصہ کم نہ ہوا۔ جو وزیر اعظم حبیب جالب کی بیوہ کا ایک جملہ برداشت نہیں کر سکتا وہ پارلیمنٹ کا اختیار بھی برداشت نہیں کرتا تھا اور ججوں سے پوچھتا تھا پارلیمنٹ کوکیسے بائی پاس کیا جائے؟ جب کوئی وزیر اعظم پارلیمنٹ کو ربڑ اسٹمپ بنانے کی کوشش کرتا ہے تو پھر وہ کسی اور کی ربڑ اسٹمپ بن جاتا ہے اور آخرکار صرف 18 ویں ترمیم نہیں بلکہ پوری پاکستانی جمہوریت ہی ایک ڈھکوسلہ بن جاتی ہے۔ (بشکریہ: روزنامہ جنگ)
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ذوالفقار احمد چیمہ چیمہ صاحب نے ایم کیو ایم نواز شریف ویں ترمیم حبیب جالب ا رمی چیف چیف جسٹس نہیں کر نہیں کی کہا کہ کے گھر ایس پی کے لیے کر دیا نے کہا
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم