Jasarat News:
2026-07-24@03:17:37 GMT

خاموش ضمیر، داغدار سفارت کاری

اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260124-03-7
کچھ فیصلے محض پالیسی نہیں بدلتے، وہ قوموں کے چہرے بدل دیتے ہیں۔ پاکستان کا نام نہاد ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں شامل ہونا بھی ایسا ہی ایک فیصلہ ہے۔ ایک ایسا لمحہ جس نے ہماری قومی شناخت کے آئینے کو دھندلا دیا ہے۔ یہ محض ایک سفارتی موڑ نہیں، بلکہ ہماری اخلاقی حیثیت کا کھلا دیوالیہ پن ہے۔ آج سے ہم وہ ملک نہیں رہے جو عالمی فورمز پر مظلوم کی آواز بن کر کھڑا ہوتا تھا؛ آج ہم اس ڈھانچے کا حصہ بن چکے ہیں جس کے ہاتھ غزہ کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

یہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ آخر ہے کیا؟ جنگ کے بعد کی تعمیر ِ نو کے خوش نما نعروں کے پیچھے دراصل ایک Post War Control Mechanism کھڑا ہے۔ ایک ایسا انتظامی فریم ورک جو امن کے نام پر فلسطینی سیاست، مزاحمت اور خودمختاری کو منجمد کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ اس بورڈ میں فیصلہ سازی ان قوتوں کے ہاتھ میں ہے جو جنگ کے دوران اسرائیلی بیانیے کی پشت پناہی کرتی رہیں، جبکہ خود فلسطینی عوام جنہوں نے تباہی سہی اس عمل میں حاشیے پر دھکیل دیے گئے۔ یہ امن نہیں، سیاسی انجینئرنگ ہے؛ یہ تعمیر ِ نو نہیں، کنٹرول کی توسیع ہے۔ یہ سچ اب کسی پردے میں نہیں رہا کہ مسلم دنیا کے وہ حکمران، جنہیں بیت اللہ اور مسجد ِ اقصیٰ جیسے مقدس مقامات کی اخلاقی ذمے داری وراثت میں ملی تھی، اپنے بنیادی فریضے سے روگرداں ہو چکے ہیں۔ مسجد ِ اقصیٰ محض اینٹ پتھر نہیں؛ یہ انبیاء کی میراث، امت کی پہچان اور تاریخ ِ مزاحمت کی علامت ہے۔ مگر آج وہ جل رہی ہے، غزہ لہو میں نہا رہا ہے، اور امت کے خود ساختہ قائدین خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ یہ سفارتی کمزوری نہیں، اخلاقی زوال ہے، وہ زوال جو ضمیر کو مصلحت کے نیچے دفن کر دیتا ہے۔

جب پاکستان کا نمائندہ اس بورڈ میں اپنی نشست سنبھالتا ہوگا، تو کیا غزہ کے ملبے تلے دبی لاشیں اس کے سامنے نہیں آئیں گی؟ کیا قائداعظم محمد علی جناحؒ کے فلسطین کے حق میں دوٹوک بیانات ضمیر پر بوجھ نہیں بنیں گے؟ شاید نہیں کیونکہ جب ’’قومی مفاد‘‘ کی نئی تشریح کی جاتی ہے تو ضمیر کو پہلے ہی مفلوج کر دیا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایک اعلان تھا: ہم نے اصول چھوڑ دیے، ہم نے مظلوم کا ساتھ چھوڑ دیا، اور ہم نے اپنے نظریے کو مصلحت کی میز پر رکھ دیا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخ اس فیصلے سے متصادم ہے۔ 1947 سے آج تک، پاکستان نے فلسطین کے مسئلے پر اصولی موقف اپنایا؛ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی روایت، او آئی سی میں فعال کردار، اور اقوامِ متحدہ میں حق ِ خود ارادیت کی حمایت؛ یہ سب ہماری سفارتی شناخت کے ستون تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اسلامی سربراہ کانفرنس ہو یا بعد کے ادوار میں فلسطینی کاز کی وکالت، پاکستان کی آواز واضح رہی۔ آج سوال یہ نہیں کہ دنیا بدل گئی؛ سوال یہ ہے کہ ہم کیوں بدلے؟

’’قومی مفاد‘‘ کی نئی تعریف یہاں مرکزی مسئلہ ہے۔ کیا معاشی دباؤ اخلاقی سرنڈر کا جواز بن سکتا ہے؟ کیا آئی ایم ایف، ایف اے ٹی ایف یا عالمی طاقتوں کی ناراضی سے بچنے کے لیے اصولوں کو گروی رکھ دینا دانشمندی ہے؟ اگر قومی مفاد کی قیمت ضمیر ہو، تو وہ مفاد نہیں خرید و فروخت ہے۔ ریاستیں وقتی ریلیف کے عوض وقتی فیصلے کر سکتی ہیں، مگر تاریخ میں سرخرو وہی ہوتی ہیں جو دباؤ کے باوجود اصول پر قائم رہیں۔ بیانات میں تشویش، دعاؤں میں فلسطین، اور عملی اقدامات میں ظالم کے بیانیے کی تکمیل؛ یہی وہ منافقت ہے جسے آج ’’حقیقت پسندی‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ قاتل کو ہتھیار اور مظلوم کو ہاتھ باندھ کر قربان گاہ میں کھڑا کر دینا کسی امن منصوبے کا حصہ نہیں ہو سکتا۔ فلسطینی مزاحمت؛ خصوصاً حماس کو غیر مسلح کرنے کی کوشش دراصل ظلم کے خلاف آخری دیوار گرانے کی سازش ہے۔ تاریخ گواہ ہے: الجزائر، ویتنام اور جنوبی افریقا میں مزاحمت ختم ہونے سے پہلے قبضہ ختم ہوا۔ مزاحمت کے بغیر امن نہیں آتا؛ قبضہ پکا ہوتا ہے۔ یہاں بین الاقوامی قانون بھی سوال کے کٹہرے میں ہے۔ اقوامِ متحدہ کا چارٹر، حق ِ خود ارادیت، جنگی جرائم کے قوانین، آئی سی سی اور آئی سی جے یہ سب کس لیے ہیں؟ اگر قابض پر کوئی شرط نہیں، مگر مظلوم کو غیر مسلح ہونا ہے، تو یہ قانون نہیں، انتخابی انصاف ہے۔ نیتن یاہو کے جرائم کو ’’جنگ‘‘ کہہ کر دھونا اور فلسطینی دفاع کو ’’دہشت گردی‘‘ کہنا ایک منظم بیانیہ ہے اور بدقسمتی سے ہم اسی بیانیے کے ساتھ بیٹھ گئے ہیں۔

مسلم دنیا کی قیادت کی اجتماعی ناکامی بھی عیاں ہے۔ ابراہیم معاہدوں کے بعد اسرائیل کے ساتھ تجارت، سفارتی گرمجوشی اور میڈیا کی خاموشی یہ سب اس زوال کی علامتیں ہیں۔ ترکی اور ملائیشیا نے کم از کم یہ واضح کیا کہ وہ اسرائیل نواز ڈھانچے کا حصہ نہیں بنیں گے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ عالمی سیاست میں اخلاقیات ابھی سانس لے سکتی ہیں۔ ہم نے کیا کیا؟ ہم نے اپنی تاریخ، اپنے نظریے اور اپنے ضمیر کو ممکنہ مراعات کے عوض فروخت کر دیا۔ اس فیصلے کا ایک اور پہلو بھی ہے: عوام اور ریاست کے درمیان بڑھتی خلیج۔ پاکستانی عوام سڑکوں پر، سوشل میڈیا پر، بائیکاٹ کی صورت فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مگر ریاستی فیصلہ اس اجتماعی ضمیر سے کٹا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ جب ریاست عوام کے اخلاقی احساس سے جدا ہو جائے تو بحران محض خارجی نہیں رہتا داخلی بن جاتا ہے۔

اب ذرا خود سے چند سوال کیجیے: ہم آج کشمیریوں کو کس منہ سے حق ِ خود ارادیت کا سبق دیں گے؟ اقوامِ متحدہ میں اخلاقی تقریریں کیسے کریں گے؟ او آئی سی میں یکجہتی کی بات کس جرأت سے کریں گے؟ ہمارے مخالف ہمیں ایک جملے میں خاموش کرا دیں گے: ’’تم خود اْس بورڈ میں بیٹھے ہو جو فلسطینی حق ِ خود ارادیت کو کچلتا ہے‘‘۔ اسکولوں میں پڑھایا جانے والا نظریۂ پاکستان اگر اصولوں سے خالی ہو جائے تو محض رسمی دلاسہ رہ جاتا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو کیا جواب دیں گے جب وہ پوچھیں گے: ’’اگر ہم فلسطین کے ساتھ تھے، تو ہمارے نمائندے وہاں کیوں بیٹھے ہیں جہاں فلسطینیوں کا مستقبل ان کی مرضی کے بغیر طے ہو رہا ہے؟‘‘ کیا ہم کہیں گے: ’’قومی مفادات بدل جاتے ہیں‘‘؟ یا یہ کہ: ’’یہ بڑی سیاست ہے؟‘‘ بڑی سیاست اگر چھوٹی اخلاقیات مانگے تو وہ سیاست نہیں، سمجھوتا ہے۔

دو برس تک غزہ نے ایسی قربانیاں دیں جن کی مثال جدید تاریخ میں کم ملتی ہے۔ بچے، عورتیں، بوڑھے، صحافی حتیٰ کہ جانور بھی بھوک سے مرتے دکھائی دیے۔ شاید اس لیے نہیں کہ دنیا جاگے، بلکہ اس لیے کہ ایک دن یہ منظر دیکھے جائیں: غزہ کے خون پر سفارتی معاہدے لکھے جائیں۔ اب ہماری خارجہ پالیسی کا نیا چہرہ واضح ہے ہم مظلوموں کے وکیل نہیں، طاقتوروں کے شراکت دار ہیں؛ ہمارے بیانیے میں اصول نہیں، مفاد پرستی مرکزی نکتہ ہے۔ جب پاکستانی نمائندہ اس بورڈ میں بیٹھے گا، تو ہر فلسطینی بچے کے چہرے پر ابھرنے والا سوالیہ نشان دراصل پاکستان کے نظریاتی وجود پر سوال ہوگا۔ ہم نے نہ صرف فلسطین کو، بلکہ خود کو بھی دھوکا دیا ہے۔ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ ہماری آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ اور سب سے بڑھ کر ہمارا اپنا ضمیر ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔ قومیں سرحدوں سے نہیں، اصولوں سے پہچانی جاتی ہیں اور اگر اصول ہاتھ سے نکل جائیں تو ہاتھ داغدار، اور ضمیر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتا ہے۔

میر بابر مشتاق سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: خود ارادیت فلسطین کے قومی مفاد جاتا ہے کے ساتھ

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف