بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت قوم کے ضمیر کے سراسر منافی ہے، علامہ صادق جعفری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
احتجاجی اجتماع سے خطاب میں صدر مجلس وحدت مسلمین کراچی نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی کھل کر اور دوٹوک حمایت کرے اور عالمی استعماری و صیہونی سازشوں کا حصہ بننے کے بجائے امتِ مسلمہ کے جذبات اور امنگوں کی ترجمانی کرے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی خوشنودی کے لیے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام نہاد ’’بورڈ آف پیس‘‘ منصوبے میں پاکستان کی شمولیت کے خلاف جامع مسجد حیدری، اورنگی ٹاؤن نمبر 10 کراچی میں نمازِ جمعہ کے فوری بعد احتجاجی اجتماع منعقد کیا گیا۔ احتجاجی اجتماع سے صدر مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن علامہ صادق جعفری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نام نہاد امریکی بورڈ آف پیس دراصل فلسطینی عوام کے ساتھ کھلا دھوکہ اور ان کے جائز، قانونی اور انسانی حقوق پر ڈاکہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی دباؤ کے تحت مسلط کئے جانے والے کسی بھی منصوبے میں پاکستان کی شمولیت قوم کے ضمیر، نظریے اور اسلامی تشخص کے سراسر منافی ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ علامہ صادق جعفری نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی کھل کر اور دوٹوک حمایت کرے اور عالمی استعماری و صیہونی سازشوں کا حصہ بننے کے بجائے امتِ مسلمہ کے جذبات اور امنگوں کی ترجمانی کرے۔ احتجاجی اجتماع کے دوران شرکاء نے فلسطین زندہ باد، اسرائیلی جارحیت نامنظور، امریکی سازشیں نامنظور کے نعرے لگائے اور فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فلسطینی عوام کے
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔