ٹرمپ کا ایران سے بات چیت پر آمادگی کا اعلان، امریکی فوجی اثاثے منتقل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اگر ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے تو امریکا بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
اپنے ایک بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جانب بڑی فورس بھیجی جا رہی ہے، تاہم امریکا صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوجی اثاثے مشرقِ وسطیٰ منتقل کیے جا رہے ہیں تاکہ خطے میں سکیورٹی صورتحال کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گرین لینڈ کی سکیورٹی کے معاملے پر نیٹو کے ساتھ مل کر کام کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
امریکی صدر نے عالمی سفارتی سرگرمیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپریل میں چین کا دورہ کریں گے جبکہ سال کے اختتام پر چینی صدر کے امریکا آنے کا بھی امکان ہے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ دورے دوطرفہ تعلقات اور عالمی معاملات پر اہم پیش رفت کا باعث بن سکتے ہیں۔
روس یوکرین جنگ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یوکرینی صدر زیلنسکی اور روسی صدر پیوتن دونوں معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اور اس حوالے سے جلد صورتحال واضح ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا عالمی امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔