Jasarat News:
2026-07-24@01:49:02 GMT

ACCA کے زیر اہتمام 8ویں پاکستان لیڈر شپ کنورسیشن کا انعقاد

اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر) پاکستان کو معاشی ترقی مرحلے میں داخل کرنے، پالیسی پر موثر عملدرآمد، ادارہ جاتی صلاحیت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے کاروباری رہنماؤں نے ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس (اے سی سی اے) کے زیرِ اہتمام منعقدہ 8 ویں پاکستان لیڈرشپ کنورسیشن (PLC) 2026 کی کراچی کانفرنس میں شرکت کی۔ پاکستان کے مالیاتی مرکز کراچی میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں سینئر کاروباری رہنماؤں، سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں نے شرکت کی، جہاں گرین فنانس، ذمہ دارانہ سرمایہ کاری اور پاکستان کی عالمی صلاحیت کے مراکز (Global Capability Centres) کی جانب منتقلی پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اے سی سی اے کی صدر میلانیا پروفٹ نے عالمی تناظرمیں پائیدار ترقی کے فروغ میں فنانس پروفیشنلز کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا ’’پائیدار ترقی کا انحصار ان فیصلوں کے معیار پر ہوتا ہے جو سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور رسک مینجمنٹ کی بنیاد بنتے ہیں۔ فنانس اور اکاؤنٹنسی کے ماہرین پائیداری کے وعدوں کو قابلِ اعتماد عملی اقدامات میں تبدیل کرنے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانے اور اداروں کو ذمہ دارانہ انداز میں وسعت دینے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں‘‘۔ کانفرنس کے افتتاحی سیشن میں اے سی سی اے پاکستان کے سربراہ اسد حمید خان نے کہا کہ کراچی میں ہونے والی گفتگو ارادوں سے عملی نفاذ کی جانب واضح پیش رفت کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’کراچی پاکستان کے سرمایہ کاری اور مالیاتی نظام کا مرکز ہے۔ گرین فنانس، مضبوط گورننس اور عالمی صلاحیت سازی اب مستقبل کے اہداف نہیں رہے، بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد اور طویل المدتی ترقی کے لیے فوری ترجیحات بن چکے ہیں‘‘۔ کراچی ایجنڈے میں گرین ہاؤس گیس (GHG) ڈیٹا کے عملی جمع اور رپورٹنگ پر ایک خصوصی سیشن شامل تھا، جس کی نظامت عمر نیاز رضوی، پارٹنر، آئی کیو کیپیٹل نے کی۔ پینل میں ماہا قاسم (بانی و سی ای او، زیرو پوائنٹ پارٹنرز)، سعدیہ خان (سابق کمشنر، ایس ای سی پی / بورڈ ممبر، پی آئی سی جی)، سید احسن علی شاہ (ہیڈ آف ای سی جی ڈی کاربنائزیشن اینڈ ایف آر آر اے، کے پی ایم جی پاکستان) اور عمر احسن خان (سی ای او، ڈاولینس) شامل تھے۔دیگر سیشنز میں سرمایہ کاروں کے نقطہ نظر سے ذمہ دارانہ سرمایہ کاری اور پاکستان کی بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ سے عالمی صلاحیت کے مراکز کی جانب منتقلی کا جائزہ لیا گیا، جس میںکاروباری ترقی، ویلیو کری ایشن اور بین الاقوامی مسابقت کے مواقع کو اجاگر کیا گیا۔

کامرس رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سرمایہ کاروں کے سرمایہ کاری

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔

بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی