بورڈ آف پیس کے بعد امریکا کا ’نیو غزہ‘ منصوبہ پیش؛ ترقی یا نسل کشی کا نیا روپ؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
امریکا نے بورڈ آف پیس کے بعد ’’نیو غزہ‘‘ منصوبہ پیش کردیا جس پر ملا جلا رجحان سامنے آیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ منصوبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر نے عالمی اقتصادی فورم (WEF) میں پیش کیا جسے ’’نیو غزہ‘‘ پراجیکٹ کا نام دیا گیا ہے۔
جیرڈ کشنر نے بتایا کہ اس منصوبے میں غزہ کے بڑے علاقوں کو فلوریسٹک سٹی اسکائی اسکریپرز، لگژری رہائشی یونٹس، ڈیٹا سینٹرز، سیاحت زونز، پارکس، زرعی اور صنعتی علاقے کے طور پر دوبارہ تعمیر کرنے کا خاکہ شامل ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ غزہ میں ایک لاکھ مستقل رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے جب کہ 75 طبی مراکز کو بحال اور فعال کیا جائے گا۔
ان کے بقول 200 سے زائد تعلیمی، ثقافتی اور پیشہ ورانہ عمارتیں بھی منصوبے کا حصہ ہیں اس کے علاوہ راہداری، سمندری بندرگاہ اور ہوائی اڈے سمیت متعدد ترقیاتی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
جیرڈ کشنر نے بتایا کہ یہ بڑا ترقیاتی منصوبہ تقریباً 25 بلین ڈالر لاگت کا ہے جس کے ذریعے غزہ میں امن اور خوشحالی آئی گی۔
قبل ازیں صدر ٹرمپ نے بھی اس منصوبے کے متعلق کہا تھا کہ یہ خوبصورت مقام سمندر کے کنارے ہے اور بہتر زندگی کے امکانات رکھتا ہے۔
لیکن ناقدین نے اسے غزہ کو صرف سرمایہ کاری کے مقاصد کے لیے دیکھا جانے والا پراجیکٹ قرار دیا ہے۔
کاروباری اور سیاسی مبصر ڈیویڈ الحدّاد نے کہا کہ نسل کشی کا منصوبہ دو مرحلوں میں ہے، پہلے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مارنا، پھر بچ جانے والوں کو ترقی کے نام پر وہاں سے نکال دینا۔
بین الاقوامی وکیل ایتائی اپسشتائن نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ کسی قانون میں ہے، نہ حقائق پر مبنی ہے۔ صرف جیرڈ کشنر کے شاندار رئیل اسٹیٹ ڈیکز کا مجموعہ ہے جس میں حقیقی انسانی امداد، بحالی اور امن کو بالائے طاق رکھا گیا ہے۔
الجزیرہ کے تجزیہ کار ہانی محمود نے کہا کہ غزہ کو ان لوگوں کی نظر سے نہیں دیکھا جا رہا ہے جو روزانہ قتل، قحط اور مصائب کی زد میں ہیں بلکہ ایک ایسی جگہ تصور کی جا رہی ہے جسے سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جائے۔
انسانی حقوق کے مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا بورڈ آف پیس ہو یا جیرڈ کشنر کا نیو غزہ پراجیکٹ، دونوں میں فلسطینیوں کو، ان کے جذبات کو اور احساسات کو نظر انداز کیا گیا۔
جس میں فلسطینی نمائندگان شامل نہیں ہیں، دراصل ایک غلط بین الاقوامی شمولیت کا مظاہرہ ہے۔ کچھ کے مطابق اس میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی موجودگی بھی تشویش کا باعث ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیو غزہ
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :