اے سی سی اے کی کراچی کانفرنس: سرمایہ کارموافق اصلاحات اور گرین فنانس پر زور
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان کو معاشی ترقی مرحلے میں داخل کرنے، پالیسی پر مؤثر عملدرآمد، ادارہ جاتی صلاحیت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانے کیلئے کاروباری رہنماؤں نے ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس (اے سی سی اے) کے زیرِ اہتمام منعقدہ 8ویں پاکستان لیڈرشپ کنورسیشن (PLC) 2026 کی کراچی کانفرنس میں شرکت کی۔
پاکستان کے مالیاتی مرکز کراچی میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں سینئر کاروباری رہنماؤں، سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں نے شرکت کی، جہاں گرین فنانس، ذمہ دارانہ سرمایہ کاری اور پاکستان کی عالمی صلاحیت کے مراکز (Global Capability Centres) کی جانب منتقلی پر توجہ مرکوز کی گئی۔
اے سی سی اے کی صدر میلانیا پروفٹ نے عالمی تناظرمیں پائیدار ترقی کے فروغ میں فنانس پروفیشنلز کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا”پائیدار ترقی کا انحصار ان فیصلوں کے معیار پر ہوتا ہے جو سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور رسک مینجمنٹ کی بنیاد بنتے ہیں۔ فنانس اور اکاؤنٹنسی کے ماہرین پائیداری کے وعدوں کو قابلِ اعتماد عملی اقدامات میں تبدیل کرنے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانے اور اداروں کو ذمہ دارانہ انداز میں وسعت دینے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔”
کانفرنس کے افتتاحی سیشن میں اے سی سی اے پاکستان کے سربراہ اسد حمید خان نے کہا کہ کراچی میں ہونے والی گفتگو ارادوں سے عملی نفاذ کی جانب واضح پیش رفت کی عکاس ہے۔انہوں نے کہا”کراچی پاکستان کے سرمایہ کاری اور مالیاتی نظام کا مرکز ہے۔ گرین فنانس، مضبوط گورننس اور عالمی صلاحیت سازی اب مستقبل کے اہداف نہیں رہے، بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد اور طویل المدتی ترقی کے لیے فوری ترجیحات بن چکے ہیں۔”
کراچی ایجنڈے میں گرین ہاؤس گیس (GHG) ڈیٹا کے عملی جمع اور رپورٹنگ پر ایک خصوصی سیشن شامل تھا، جس کی نظامت عمر نیاز رضوی، پارٹنر، آئی کیو کیپیٹل نے کی۔ پینل میں ماہا قاسم (بانی و سی ای او، زیرو پوائنٹ پارٹنرز)، سعدیہ خان (سابق کمشنر، ایس ای سی پی / بورڈ ممبر، پی آئی سی جی)، سید احسن علی شاہ (ہیڈ آف ای سی جی ڈی کاربنائزیشن اینڈ ایف آر آر اے، کے پی ایم جی پاکستان) اور عمر احسن خان (سی ای او، ڈاولینس) شامل تھے۔
دیگر سیشنز میں سرمایہ کاروں کے نقط نظر سے ذمہ دارانہ سرمایہ کاری اور پاکستان کی بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ سے عالمی صلاحیت کے مراکز کی جانب منتقلی کا جائزہ لیا گیا، جس میں کاروباری ترقی، ویلیو کری ایشن اور بین الاقوامی مسابقت کے مواقع کو اجاگر کیا گیا۔
ذوالفقار علی کاؤسر، مینیجنگ پارٹنر، بی ڈی او پاکستان نے کلیدی خطاب کے ذریعے سیشن کا آغاز کیا، جس کے بعد ایک پینل ڈسکشن منعقد ہوئی جس کی نظامت حنا صادق، پارٹنر، یوسف عادل چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس نے کی۔ پینل میں مونیٖزا بٹ (پارٹنر، کے پی ایم جی پاکستان)، ناصر وہرا (منیجنگ ڈائریکٹر و پارٹنر، EY Rapid Innovation)، طٰہہ بقائی (پارٹنر ٹیکس، اے ایف فرگوسن اینڈ کمپنی)، ٹیڈ پرِٹی (سی ای او، RIM Incorporated اور ڈائریکٹر، DATArecall) اور ذیشان پرویز (صدر، ACEN Shared Services) شامل تھے۔
پاکستان لیڈرشپ کنورسیشن کا تیسرا اور آخری سیشن22جنوری کو اسلام آباد میں ہو گا، جہاں توجہ پالیسی ہم آہنگی، کلائمیٹ گورننس اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پر مرکوز ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاروں کے سرمایہ کاری اے سی سی اے
پڑھیں:
سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
عالمی اور مقامی مارکیٹس میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونا ایک ہزار 800 روپے سستا ہوگیا، جس کے بعد سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 35 ہزار 636 روپے ہوگئی، اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں ایک ہزار 543 روپے کی کمی ہوئی، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 73 ہزار 487 روپے مقرر کی گئی ہے۔دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان دیکھا گیا، جہاں فی اونس سونا 18 ڈالر سستا ہونے کے بعد 4 ہزار 96 ڈالر پر آگیا۔