کراچی میں 200 فائراسٹیشن اور 28 ہزار سے زائد فائرفائٹرز کی ضرورت مگر فائر اسٹیشن 28 اور فائٹر صرف 700 ہیں
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
آبادی کے تناسب سے کراچی کو کم ازکم 200 فائر اسٹیشنز اور 28 ہزار سے زائد فائر فائٹرز کی ضرورت ہے، تاہم شہر میں اس وقت صرف 28 فائر اسٹیشنز اور تقریباً 700 فائر فائٹرز ہی موجود ہیں۔
سانحہ گل پلازہ کے بعد ایک بار پھر کراچی کے فائر فائٹنگ نظام پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی معیار سے موازنہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ کراچی میں فائر بریگیڈ کا نظام دس فیصد سے بھی کم صلاحیت کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ دنیا کے بیشتر بڑے شہروں میں فائر فائٹنگ کو ایک بنیادی اور ترجیحی شعبہ سمجھا جاتا ہے، مگر کراچی میں یہ شعبہ بھی دیگر اہم اداروں کی طرح طویل عرصے سے نظرانداز ہوتا چلا آ رہا ہے۔
بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہر ایک لاکھ آبادی کے لیے ایک ماڈل فائر اسٹیشن، چار فائر گاڑیاں اور 144 اہلکاروں پر مشتمل عملہ ہونا چاہیے۔ اس حساب سے دو کروڑ آبادی والے شہر کراچی کو کم ازکم 200 فائر اسٹیشنز، 800 فائر گاڑیوں اور 28 ہزار 800 اہلکاروں کی ضرورت ہے۔
اتنے بڑے شہر میں صرف 28 فائر اسٹیشنز ہونے کے باعث آگ لگنے کی صورت میں ریسکیو ٹیموں کو جائے وقوعہ تک پہنچنے میں غیر معمولی تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں آگ پھیلنے اور جانی و مالی نقصان میں اضافے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
مزید برآں کراچی فائر بریگیڈ کی 30 سے زائد گاڑیاں کئی برسوں سے خراب حالت میں کھڑی ہیں، جن کی تاحال مرمت نہیں ہو سکی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل فائر اسٹیشنز
پڑھیں:
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
لاہور: دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھیواضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔