وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے بھر کی تمام مارکیٹیں، عمارتیں، سکولز اور ہائر رائز بلڈنگز کا فائر سیفٹی آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں صوبے میں فائر ڈرل کرانے، فائر سیفٹی حفاظتی ضوابط مکمل کرنے اور بلڈنگ سیفٹی ایکٹ پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایات دی گئیں۔

وزیر اعلیٰ نے 2 ہفتے کی مہلت دی اور بلڈنگ سیفٹی ایکٹ پر عملدرآمد کے لیے پیرا فورس کو خصوصی اختیارات تفویض کرنے اور ایک خصوصی سیل قائم کرنے کا بھی حکم دیا۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ تمام عمارتوں میں داخلی و خارجی راستے کلیئر رکھنا اور حفاظتی سائن ایج درست اور واضح ہونا لازم ہے۔

مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیرصدارت اجلاس، گندم کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ

اجلاس میں بریفنگ میں بتایا گیا کہ ریسکیو 1122 کی نشاندہی پر جیو ٹیگڈ مقامات پر واسافائر ہائیڈرینٹس نصب کیے جائیں گے اور صوبہ بھر میں اہم مقامات کی جیو ٹیگنگ کی جائے گی۔ ریسکیو 1122 کو تھرمل اور جدید ڈرونز سے لیس کیا جائے گا، اور 2 ہفتوں کے اندر تمام عمارتوں میں ایکسٹرنل فائر ہائیڈرینٹس نصب کیے جائیں گے۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ عمارتوں میں آتشزدگی سے نمٹنے کے لیے حکمت، ہمت اور جدید ٹیکنالوجی ضروری ہے اور عوام کی زندگی سے کھیلنے والوں کی پنجاب میں کوئی جگہ نہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پنجاب کی ہر تحصیل، مارکیٹ، عمارت، سکول اور ہائر رائز بلڈنگ اب محفوظ ہوگی۔

مزید پڑھیں: لاہور: پتنگ کی ڈور گلے میں پھرنے سے نوجوان زخمی، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا نوٹس

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب حکومت تمام صنعتی اداروں کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کرے گی تاکہ انسانی اور عماراتی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ ریسکیو 1122 کو اقوام متحدہ کی سرٹیفیکیشن بھی حاصل ہے اور اس سال کے دوران یہ سروسز پنجاب کی تمام تحصیلوں میں متعارف کرائی جائیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مارکیٹیں، عمارتیں، سکولز وزیراعلیٰ مریم نواز وزیراعلیٰ مریم نواز شریف.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: وزیراعلی مریم نواز وزیراعلی مریم نواز شریف مریم نواز شریف اجلاس میں کے لیے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف