گرین لینڈ میں محدود اختیارات، معدنی وسائل میں حصہ؛ امریکا کا نیٹو کیساتھ ابتدائی معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
امریکا اور نیٹو کے درمیان گرین لینڈ پر ابتدائی معاہدہ طے پاگیا ، معاہدہ برطانیہ کے سائپرس معاہدے کی طرز کا ہوگا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رٹے نے گرین لینڈ اور پورے آرکٹک خطے کیلئے معاہدے کے فریم ورک پر اتفاق کر لیا۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق معاہدے کے تحت امریکا کو گرین لینڈ کے چند منتخب علاقوں میں اختیارات حاصل ہونگے جبکہ وہ اس کے معدنی وسائل میں بھی حصہ دار ہو گا، روس اور چین کسی بھی صورت اس معاہدے میں مداخلت نہیں کر سکیں گے،امریکا وہاں اپنا جدید گولڈن ڈوم سسٹم بھی نصب کریگا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ امریکا اور تمام نیٹو ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا،اس موقع پر ٹرمپ نے یوٹرن لیتے ہوئے یورپی ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی واپس لے لی، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر لکھا اگلے ماہ نیٹو پر کوئی نیا ٹیرف نہیں عائد کیا جائیگا۔
مزید پڑھیںامریکی جنگی طیارے گرین لینڈ کیوں پہنچے؟ وجہ سامنے آگئی
رپورٹس کے مطابق امریکا معاہدے کے تحت فوجی مشقیں، انٹیلی جنس مشنز اور تربیتی سرگرمیاں بغیر ڈنمارک سے اجازت لئے انجام دے سکے گا،اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ گرین لینڈ کو خریدنا چاہتے ہیں، اسے کرائے پر لینا نہیں چاہتے،انہیں نایاب معدنیات کی ضرورت نہیں، انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اس جزیرے پر اب تک کا سب سے عظیم سنہرا گنبد تعمیر کرینگے۔
ادھر روسی صدر پیوٹن نے واضح کیا ہے کہ گرین لینڈ کی ملکیت کا معاملہ امریکا اور ڈنمارک آپس میں حل کرلیں، روس کو کوئی اعتراض نہیں ہے،دریں اثناء چین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی صدر کا بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی جگہ نہیں لے سکتا، ڈنمارک کی وزیراعظم نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے بیانات کا خیر مقدم کرتی ہیں تاہم فوجی طاقت کے استعمال کو قطعی طور پر مسترد کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گرین لینڈ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔