امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر ڈیوس میں خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اقتدار میں واپسی کے بعد آٹھ جنگوں کا خاتمہ کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کی حالیہ خارجہ پالیسی کے باعث عالمی سطح پر کشیدگی میں واضح کمی آئی ہے۔

ایران سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے گزشتہ برس جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کی تعریف کی اور دعویٰ کیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں ایران کی جوہری صلاحیت مکمل طور پر ختم ہو گئی۔ ان کے مطابق ایران اب مذاکرات کا خواہاں ہے اور امریکا سے بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے شام میں داعش کے خلاف امریکی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے اور یورپ، امریکا اور مشرقِ وسطیٰ کو درپیش سکیورٹی خطرات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سال قبل دنیا شدید بحران کا شکار تھی، تاہم اب حالات نسبتاً بہتر اور مستحکم ہو رہے ہیں۔

اسی موقع پر صدر ٹرمپ نے اپنے مجوزہ عالمی فورم ’بورڈ آف پیس‘ کے قیام کا باضابطہ اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس فورم کا مقصد بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق 59 ممالک مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں میں شامل ہیں اور کئی عالمی رہنما اس فورم کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

بعد ازاں صدر ٹرمپ نے ڈیوس میں بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط بھی کیے۔ اس موقع پر بحرین اور مراکش کے رہنما بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

صدر ٹرمپ نے دستاویزات پر دستخط کرنے کے بعد انہیں میڈیا کے سامنے پیش کیا، جس کے بعد دیگر عالمی رہنماؤں نے بھی باری باری آ کر چارٹر پر دستخط کیے۔

غزہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر حماس نے ہتھیار ترک نہ کیے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اقوامِ متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا