اگر پی ٹی آئی 8فروری کو لوگ نہ نکال سکی تو 6 مہینے پیچھے چلی جائے گی، شیر افضل مروت WhatsAppFacebookTwitter 0 22 January, 2026 سب نیوز

پشاور (سب نیوز)پاکستان تحریک انصاف کے منحرف رہنما اور رکن قومی اسمبلی شیرافضل مروت نے کہا ہے کہ 8فروری کے احتجاج پر حکومت اور لوگوں کی نظریں ہیں، اگر پی ٹی آئی زیادہ تعداد میں لوگ نکالنے میں کامیاب ہوئی تو مذاکرات کا مستقبل روشن ہوگا اور اگر احتجاج ناکام ہو گیا تو پی ٹی ائی کو دھچکا لگے گا۔

پشاور ہائیکورٹ میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے مابین مذاکرات کی ضرورت نہیں ہے ضرورت تب ہوگی جب پی ٹی آئی سے احتجاجی سیاست کا خدشہ ہو۔انہوں نے کہا کہ اس وقت لوگوں کی نظریں 8 فروری کے احتجاج پر ہیں، اگر پی ٹی آئی زیادہ لوگوں کو نکالنے میں کامیاب ہوگئی تو مذاکرات کا کا مستقبل روشن ہوگا اور اگر احتجاج قابل ذکر نہ ہوا تو میرا خیال ہے پی ٹی آئی کو دھچکا لگے گا اور دوبارہ احتجاج کی صلاحیت بہتر بنانے میں انہیں 6 ماہ تک لگ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرریاں کافی دیر سے ہوئی ہیں ایوان اپوزیشن لیڈر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، اس پر پانچ ماہ لگے یہ کام پانچ ماہ قبل بھی ہو سکتا تھا۔شیر افضل مروت نے کہا کہ مذاکرات سے پہلے اگر سیاسی قیدیوں کی رہائی، بانی چیئرمین کی ملاقاتیں بحال اور انہیں ڈاکٹر و فیملی کی رسائی ہو لوگوں کو ازادی ہو اور تمام سیاسی جماعتیں جلسے کریں تو ملک کے لئے بہتر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت غیر اعلانیہ مارشل لا نافذ ہے، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں یہ ہو رہا ہے، ملک میں قانون کی حکمرانی ہر پارٹی کی ضرورت ہے لیکن کسی بھی قوم اور معاشرے کی ترقی قانون کی حکمرانی میں ہے۔انہوں نے کہا کہ 8 فروری کو احتجاج کی کامیابی کا انحصار اس کی پلاننگ پر ہوگا کہ وہ کس طرح گھروں سے نکالتے ہیں ابھی تک احتجاج کی خدوخال بھی سامنے نہیں ائے کہ یہ لوگ کس طرح کا احتجاج کریں گے۔شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پہیہ جام اور شٹرڈاون کا اعلان کیا گیا ہے کہ ان کا احتجاج صرف خیبر پختون خوا میں ہوگا، یہ ملک بھر میں ہوگا، کیا پی ٹی آئی جلسہ بھی کرے گی کہ نہیں عوام کو اس سے آگاہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ میرے علاقے کے فنڈز کو روکا گیا ہے اور اس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے عدالت نے اس پر حکم امتناعی بھی جاری کیا ہے کہ میرے حلقے کے فنڈز واپس نہ کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تیراہ آپریشن صوبائی حکومت کی مرضی سے نہیں ہو رہا لیکن تیراہ آپریشن کو بھی دیکھنا چاہیے کہ وہاں پر حالات کیسے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اگر اپریشن کی ضرورت ہے تو پھر عوام اور حکومت کو پاک فوج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپرتشدد مظاہروں کے دوران 3117افراد ہلاک ہوئے، ایران نے حیران کن اعدادوشمار جاری کردیئے پرتشدد مظاہروں کے دوران 3117افراد ہلاک ہوئے، ایران نے حیران کن اعدادوشمار جاری کردیئے پنجاب پولیس نے سی سی ڈی پر جعلی پولیس مقابلوں کے تمام الزامات مسترد کردیے لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں کر رہے،شرجیل میمن بورڈ آف پیس میں یورپ شامل نہ ہوا مگر شہباز شریف قاتل نتین یاہو کیساتھ مشاورت کرینگے، فضل الرحمان اپوزیشن کا غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کے فیصلے پر اعتماد میں لینے کا مطالبہ ایم کیو ایم کا کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے، 18ویں ترمیم ختم کرنے کا مطالبہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: افضل مروت نے کہا انہوں نے کہا کہ شیر افضل مروت اگر پی ٹی آئی

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل